ایک مقامی پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ پہلے ایک بڑا دھماکا ہوا جو ایک خودکش کار دھماکا تھا اور اس کے بعد مزید دھماکے اور فائرنگ بھی ہوئی۔
کابل کے سی آئی ڈی چیف محمد ظاہر کا کہنا تھا کہ دو، تین یا چار افراد پر مشتمل ایک دہشت گردوں کے گروپ نے ٹریفک پولیس کی بلڈنگ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ دو بمباروں نے کو داخلی دروازے پر ہی ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک شخص شاید بلڈنگ میں داخل ہوگیا تھا اور فائرنگ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلا دھماکا بہت زوردار اور اس کے بعد مزید دھماکے اور فائرنگ ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پرآگ بجھانے والے ٹرک، ایمبیولنس اور پولیس موجود ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ایس ایم ایس پیغام میں اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان عسکریت پسند اس حملے کے پیچھے تھے۔ طالبان کے مطابق مذکورہ کمپلکس سے امریکی سکیورٹی ادارے فوجی ٹریننگ کیلیے فائدہ اٹھاتے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکا شدید نوعیت کا ہے اور اس کی آواز دور دور تک سُنی گئی ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…