ایک مقامی پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ پہلے ایک بڑا دھماکا ہوا جو ایک خودکش کار دھماکا تھا اور اس کے بعد مزید دھماکے اور فائرنگ بھی ہوئی۔
کابل کے سی آئی ڈی چیف محمد ظاہر کا کہنا تھا کہ دو، تین یا چار افراد پر مشتمل ایک دہشت گردوں کے گروپ نے ٹریفک پولیس کی بلڈنگ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ دو بمباروں نے کو داخلی دروازے پر ہی ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک شخص شاید بلڈنگ میں داخل ہوگیا تھا اور فائرنگ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلا دھماکا بہت زوردار اور اس کے بعد مزید دھماکے اور فائرنگ ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پرآگ بجھانے والے ٹرک، ایمبیولنس اور پولیس موجود ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ایس ایم ایس پیغام میں اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان عسکریت پسند اس حملے کے پیچھے تھے۔ طالبان کے مطابق مذکورہ کمپلکس سے امریکی سکیورٹی ادارے فوجی ٹریننگ کیلیے فائدہ اٹھاتے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکا شدید نوعیت کا ہے اور اس کی آواز دور دور تک سُنی گئی ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…