ایک مقامی پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ پہلے ایک بڑا دھماکا ہوا جو ایک خودکش کار دھماکا تھا اور اس کے بعد مزید دھماکے اور فائرنگ بھی ہوئی۔
کابل کے سی آئی ڈی چیف محمد ظاہر کا کہنا تھا کہ دو، تین یا چار افراد پر مشتمل ایک دہشت گردوں کے گروپ نے ٹریفک پولیس کی بلڈنگ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ دو بمباروں نے کو داخلی دروازے پر ہی ہلاک کر دیا گیا جبکہ ایک شخص شاید بلڈنگ میں داخل ہوگیا تھا اور فائرنگ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلا دھماکا بہت زوردار اور اس کے بعد مزید دھماکے اور فائرنگ ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پرآگ بجھانے والے ٹرک، ایمبیولنس اور پولیس موجود ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ایس ایم ایس پیغام میں اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان عسکریت پسند اس حملے کے پیچھے تھے۔ طالبان کے مطابق مذکورہ کمپلکس سے امریکی سکیورٹی ادارے فوجی ٹریننگ کیلیے فائدہ اٹھاتے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکا شدید نوعیت کا ہے اور اس کی آواز دور دور تک سُنی گئی ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…