وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے اتوار کو رات گئے کوئٹہ میں دھرنے پر بیٹھے مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی صوبائی حکومت کی برطرفی اورگورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس اعلان کے بعد کوئٹہ میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان عمدار روڈ پر ایک جلسہ میں کیا گیا جس کے بعد اب دھماکوں میں ہلاک شدگان کی میتیں امام بارگاہ لیجائی جا رہی ہیں جن کی تدفین دوپہر کو متوقع ہے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اتوار کی رات ہی صدرِ پاکستان نے وزیراعظم کی جانب سےآئین کے آرٹیکل 234کے تحت بھیجی گئی سمری پر دستخط بھی کر دیے ہیں جس کے بعد گورنر راج عملی طور پر نافذ ہوگیا ہے۔
خیال رہے کہ شیعہ تنظیموں نےگورنر راج کے عملی نفاذ تک دھرنا جاری رکھنے اور دھماکوں کے ہلاک شدگان کی تدفین نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ دھرنا جمعرات کو علمدار روڈ پر ہونے والے دوہرے دھماکوں میں نوے سے زائد شیعہ افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا اور ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سمیت ہزاروں افراد سخت سرد موسم میں پچھہتر میتیں ساتھ لیے اسّی گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
علمدار روڈ پر دھرنے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد شامل رہی اور یہ افراد بلوچستان کی موجودہ حکومت کے خاتمے، کوئٹہ شہر کی سکیورٹی کا انتظام فوج کے حوالے کرنے اور حملہ آوروں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے مطالبات کر رہے ہیں۔
کوئٹہ سے مقامی صحافی محمد کاظم کے مطابق وزیراعظم نے گورنر راج کے نفاذ کا اعلان اتوار کو کوئٹہ میں ساٹھ گھنٹے سے پچھہتر میتوں سمیت دھرنا دینے والے مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد کیا۔
پنجابی امام بارگاہ میں ہونے والی ملاقات میں انہوں نے پہلے ہلاک شدگان کے لیے فاتحہ خوانی کی جس کے بعد انہیں ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل دو سو چونتیس کے نفاذ کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تحلیل کر دی جائے گی اور ’جب آپ صبح اٹھیں گے تو صوبے میں گورنر راج نافذ ہوگا اور گورنر ذوالفقار مگسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوں گے‘۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وہ گورنر سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس سانحے کے ذمہ داران کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوائیں گے اور کسی سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
اس موقع پر ہزارہ برادری کے نمائندوں نے وزیراعظم سے کوئٹہ میں فوج کی تعیناتی پر بھی اصرار کیا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد کوئٹہ کے کور کمانڈر گورنر مگسی کے احکامات کے پابند ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صوبے میں فرنٹیئر کور کو پولیس کے مکمل اختیارات دے دیے گئے ہیں اور انتظامیہ جب چاہے مدد کے لیے فوج بھی طلب کر سکتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کورکمانڈر ایف سی کی کارکردگی پر نظر رکھیں گے اور کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائےگا۔
انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ دھرنا ختم کریں اور جمعرات کو دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کر دیں تاہم موقع پر موجود ہزارہ رہنما قیوم چنگیزی نے گورنر راج کا نوٹیفیکیشن ہاتھ میں آنے تک لاشوں کی تدفین سے انکار کر دیا۔
ادھر کوئٹہ یکجہتی کونسل کے صدر سعادت علی ہزارہ نے کہا ہے کہ مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد علمدار روڈ پر جاری دھرنا جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے تاہم کچھ افراد معاملات کو پیچیدہ بنانے پر مُصِر ہیں۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…