نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ کوئٹہ کی موجودہ صورتحال کا حل نکالنا ہو گا، اسلام میت کی جلد تدفین کا حکم دیتا ہے، دھرنے میں رکھنے سے انسانی لاشوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے، انھیں شریعت کے تقاضوں کے مطابق دفن کیا جائے، اگر بالفرض بلوچستان میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگایا جاتا ہے تو کیا ضمانت ہے کہ اس سے صوبہ میں امن وامان کی صورتحال درست ہو جائے گی اور لوگوں کو مارنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔
این این آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کراچی میں پارٹی عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کوئٹہ اور سوات پر پوری قوم غمزدہ ہے، حکومت قاتلوں کو گرفتار کرے اور احتجاج میں بیٹھے لوگوں کے جائز مطالبات کو پورا کرتے ہوئے ملک کو خانہ جنگی سے بچائے۔ انھوں نے کہا کہ بم دھماکوں اور ڈرون حملوں سے نڈھال اور بے حال عوام ملک میں جلد انتخابات کے ذریعہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ملک کی موجودہ نازک اور پریشان کن صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا تو پھر قوم حکمراں طبقہ کو معاف نہیں کریگی۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…