نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ کوئٹہ کی موجودہ صورتحال کا حل نکالنا ہو گا، اسلام میت کی جلد تدفین کا حکم دیتا ہے، دھرنے میں رکھنے سے انسانی لاشوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے، انھیں شریعت کے تقاضوں کے مطابق دفن کیا جائے، اگر بالفرض بلوچستان میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگایا جاتا ہے تو کیا ضمانت ہے کہ اس سے صوبہ میں امن وامان کی صورتحال درست ہو جائے گی اور لوگوں کو مارنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔
این این آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کراچی میں پارٹی عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کوئٹہ اور سوات پر پوری قوم غمزدہ ہے، حکومت قاتلوں کو گرفتار کرے اور احتجاج میں بیٹھے لوگوں کے جائز مطالبات کو پورا کرتے ہوئے ملک کو خانہ جنگی سے بچائے۔ انھوں نے کہا کہ بم دھماکوں اور ڈرون حملوں سے نڈھال اور بے حال عوام ملک میں جلد انتخابات کے ذریعہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ملک کی موجودہ نازک اور پریشان کن صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا تو پھر قوم حکمراں طبقہ کو معاف نہیں کریگی۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…