جامع مسجدمکی زاہدان میں جمعے کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دن دیہاڑے لوگوں کو محض چند لیٹر ڈیزل کی وجہ سے ماردیا جاتاہے۔ انہوں نے کہا: ایران میں انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں، معمولی اشیاء کی سمگلنگ پر سکیورٹی فورسز لوگوں پر فائر کھولتے ہیں۔ اسرائیل اپنی تمام تر درندگی کے باوجود صرف اپنے ایک سپاہی کی جان بچانے کیلیے ایک ہزار سے زائد فلسطینی اسرا کو رہاکرنے پر رضامند ہوگیا لیکن یہاں ہماری پولیس اور فورسز خود لوگوں کو قتل کرتی ہے۔
گزشتہ ہفتے میں زاہدان شہر کی حدود میں ایک نوجوان کے قتل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے اس سانحے کو انتہائی المناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا اس سے پہلے بھی ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور لوگوں کو غیرقانونی طور پر تیل لوڈ کرنے کی وجہ سے فائرنگ سے قتل کیا جاچکاہے۔ لہذا حکام ایسے سانحات کی روک تھام کیلیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔
مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی نے حکام کو مخاطب کرکے کہا: ہم کسی بھی شیء کی سمگلنگ کے حق میں نہیں ہیں، لیکن لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ ملک کی معاشی حالت بحرانوں سے دوچار ہوچکی ہے؛ پہلے لوگوں کی معیشت کیلیے جائز راستے دکھائیں پھر سخت اقدامات کیلیے قدم بڑھائیں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں حکام چشم پوشی و مسامحہ اختیار کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…