نیم سرکاری ٹی وی ‘الاخباریہ’ نے دس نعشیں جلی ہوئی اور ہلال احمر کے کارکنوں کو متاثرہ افراد کی تلاش کرتے ہوئے دکھایا۔ دمشق میں حزب اختلاف کی انقلاب کونسل کے مطابق دھماکا ایک کار میں بارود نصب کر کے کیا گیا۔
فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ سنی اکثریتی ضلع بازہ البلد میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری کس پر عاید ہوتی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک حکومت مخالف کارکن نے بتایا کہ پٹرول پمپ پر عموما اس وقت بھی رش دیکھا جاتا ہے جب وہاں پٹرول کی سپلائی نہیں ہوتی۔ متعدد افراد رات کو پمپ کے باہر گاڑیوں میں سوتے ہیں تاکہ علی الصباح پٹرول کی سپلائی آنے پر تیل بھروا سکیں۔
اس ہفتے میں دمشق کے پٹرول پمپ پر دوسرا حملہ ہے۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق پٹرول ڈلوانے کے انتظار میں قطار میں کھڑے درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی’سانا’ نے دھماکے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے، اس میں جس پٹرول پمپ کو نشانہ بنایا گیا وہ شہر کے مصروف ہسپتال کے قریب واقع تھا۔
اس ہفتے اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شامی خانہ جنگی میں ابتک 60,000 افراد مارے جا چکے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…