نیم سرکاری ٹی وی ‘الاخباریہ’ نے دس نعشیں جلی ہوئی اور ہلال احمر کے کارکنوں کو متاثرہ افراد کی تلاش کرتے ہوئے دکھایا۔ دمشق میں حزب اختلاف کی انقلاب کونسل کے مطابق دھماکا ایک کار میں بارود نصب کر کے کیا گیا۔
فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ سنی اکثریتی ضلع بازہ البلد میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری کس پر عاید ہوتی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک حکومت مخالف کارکن نے بتایا کہ پٹرول پمپ پر عموما اس وقت بھی رش دیکھا جاتا ہے جب وہاں پٹرول کی سپلائی نہیں ہوتی۔ متعدد افراد رات کو پمپ کے باہر گاڑیوں میں سوتے ہیں تاکہ علی الصباح پٹرول کی سپلائی آنے پر تیل بھروا سکیں۔
اس ہفتے میں دمشق کے پٹرول پمپ پر دوسرا حملہ ہے۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق پٹرول ڈلوانے کے انتظار میں قطار میں کھڑے درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی’سانا’ نے دھماکے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے، اس میں جس پٹرول پمپ کو نشانہ بنایا گیا وہ شہر کے مصروف ہسپتال کے قریب واقع تھا۔
اس ہفتے اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شامی خانہ جنگی میں ابتک 60,000 افراد مارے جا چکے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…