نیم سرکاری ٹی وی ‘الاخباریہ’ نے دس نعشیں جلی ہوئی اور ہلال احمر کے کارکنوں کو متاثرہ افراد کی تلاش کرتے ہوئے دکھایا۔ دمشق میں حزب اختلاف کی انقلاب کونسل کے مطابق دھماکا ایک کار میں بارود نصب کر کے کیا گیا۔
فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ سنی اکثریتی ضلع بازہ البلد میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری کس پر عاید ہوتی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک حکومت مخالف کارکن نے بتایا کہ پٹرول پمپ پر عموما اس وقت بھی رش دیکھا جاتا ہے جب وہاں پٹرول کی سپلائی نہیں ہوتی۔ متعدد افراد رات کو پمپ کے باہر گاڑیوں میں سوتے ہیں تاکہ علی الصباح پٹرول کی سپلائی آنے پر تیل بھروا سکیں۔
اس ہفتے میں دمشق کے پٹرول پمپ پر دوسرا حملہ ہے۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق پٹرول ڈلوانے کے انتظار میں قطار میں کھڑے درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی’سانا’ نے دھماکے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے، اس میں جس پٹرول پمپ کو نشانہ بنایا گیا وہ شہر کے مصروف ہسپتال کے قریب واقع تھا۔
اس ہفتے اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شامی خانہ جنگی میں ابتک 60,000 افراد مارے جا چکے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام