Categories: مشرق وسطی

غزہ میں فتح کی سالگرہ پر ہزاروں فلسطینیوں کی ریلی میں شرکت

اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے زیرنگیں غزہ شہر میں جمعہ کو ہزاروں فلسطینیوں نے صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے اڑتالیسیویں یوم تاسیس کے موقع پر نکالی گئی ریلی میں شرکت کی ہے۔
ریلی میں مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے فتح کے متعدد سنئیر لیڈر شریک تھے۔ البتہ خود صدر محمود عباس نے شرکت نہیں کی اور انھوں نے رام اللہ سے ٹیلی ویژن کے ذریعے خطاب کیا۔انھوں نے پیشین گوئی کی کہ دونوں فلسطینی دھڑوں کے درمیان بہت جلد اختلافات کا خاتمہ ہو جائے گا اور ان میں دوبارہ اتحاد قائم ہو گا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں جلد غزہ لوٹنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے فلسطینیوں کے درمیان اتحاد ایک اہم قدم ہو گا۔

گذشتہ پانچ سال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ فتح نے اپنی حریف اسلامی جماعت حماس کے زیر نگیں شہر میں ریلی نکالی ہے اور اس میں ہر طرف اس جماعت کے زرد رنگ کے پرچم لہراتے نظر آ رہے تھے۔ فتح کو اس مظاہرے کے لیے حماس کی حمایت حاصل تھی۔اس نے اپنی حریف جماعت کو عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی اجازت دے کر فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کے روّیے میں تبدیلی کو فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتحاد کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

فتح کے ایک رکن امل حماد نے اس موقع پر کہا کہ ”آج کا پیغام واضح ہے۔ان کی جماعت کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ فتح زندہ ہے اور کوئی بھی اس کو بے دخل نہیں کر سکتا اور ہماری جماعت اختلافات کا خاتمہ چاہتی ہے”۔

دوسری جانب حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے غزہ میں فتح کی ریلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اس کی کامیابی فتح کی کامیابی ہے اور یہ حماس کی بھی کامیابی ہے۔ یہ مثبت ماحول قومی اتحاد کی جانب ایک اہم قدم ہے”۔

فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتحاد اور قومی مصالحت کے لیے حالیہ پیش رفت پر اسرائیلی لیڈر البتہ ضرور پریشان ہیں اور وہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کے بیج بونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دو روز پہلے ہی اپنے اس مزعومہ خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ”حماس فلسطینی صدر محمود عباس کو مغربی کنارے سے بھی نکال باہر کر سکتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح اس نے 2007ء میں غزہ کی پٹی سے فتح تنظیم کا صفایا کر دیا تھا”۔

نومبر میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی جارحیت کے بعد سے دونوں بڑی فلسطینی جماعتیں حماس اور فتح ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں اور مصر ان کے لیڈروں کے درمیان مصالحتی معاہدہ طے کرانے کے لیے نئے مذاکرات کی بھی تیاری کر رہا ہے۔ ایک مصری عہدے دار نے برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان آیندہ دو ہفتے میں نئے مذاکرات کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ حماس اور فتح کے درمیان جون 2007ء سے تنازعہ چلا آ رہا تھا۔ تب صدر محمود عباس نے حماس کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت ختم کردی تھی جس کے بعد حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی الگ حکومت قائم کر لی تھی اور حماس کے تحت سکیورٹی فورسز نے فتح کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلح جھڑپوں کے بعد علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور صدر عباس کے وفاداروں اور حامیوں کو وہاں سے نکال باہر کیا تھا۔


غزہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

2 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago