Categories: مشرق وسطی

مصر: مظاہرین کو ہٹانے کا سلسلہ شروع

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں فوج نے صدارتی محل کے باہر سے مظاہرین اور میڈیا کے لوگوں کو ہٹانا شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے بعد کیا گیا ہے جس میں پانچ افراد ہلاک اور 644 زخمی ہوئے تھے۔


مظاہرین کو علاقہ خالی کرنے کے لیے گرینج کے میعارت وقت کے مطابق ایک بجے تک کی مہلت دی گئی تھی۔
دریں اثناء مصر کے اعلٰی اسلامی ادارے نے صدر مرسی سے کہا ہے کہ وہ اپنے اس فرمان کو واپس لے لیں جس میں انہوں نے اپنے اختیارات میں اضافہ کیا ہے۔
جامعۃ الازہر نے صدر اور ان کے مخالفین کے درمیان غیر مشروط بات چیت کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
صدر مرسی نے بائیس نومبر کو ایک فرمان کے ذریعے اپنے اختیارات میں اضافہ کر لیا تھا جن کے تحت عدالت ان کے جاری کردہ کسی فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتی۔
صدر مرسی جنہوں نے جون میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی ان کا کہنا ہے کہ ایک بار نئے آئین کی توثیق ہو جائے وہ اپنے اختیارات میں کمی کر دیں گے۔
تاہم آئین کے مجوزہ مسودے پر بھی تنازع ہے جسے صدر کے حامی اسلام پسندوں کی تنظیم نے تیار کیا ہے۔
مصر کے نائب صدر محمود مکی کا کہنا ہے کہ تمام مخالفت کے باوجود آئین کے متنازع مسودے پر ریفرنڈم کرایا جائے گا۔
صدر مرسی کے مشیروں میں سے چار نے احتجاجاً بدھ کے روز اسعفی دیدیا ہے۔
قاہرہ میں صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے بعد فوج نے صدارتی محل کے باہر ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کردی تھیں۔
فوج کے اس قدم کے بعد قاہرہ کی سڑکوں پر امن ہے۔
حزبِ مخالف کے رہنما تشدد کا ذمے دار اخوانِ مسلمین کو ٹھہرا رہے ہیں۔
یہ انتشار ملک کے دوسرے حصوں بھی پھیل گیا ہے اور سویز اور اسماعیلیہ کے شہروں میں ہجوم نے اخوانِ مسلمین کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی۔
حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ اگر صدر مرسی اختیارات میں اضافے کا فرمان واپس لے لیں اور نئے آئین پر ریفرنڈم منسوخ کرا دیں وہ ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
نائب صدر کا کہنا ہے کہ مظاہرے اس بحران کا حل نہیں اور یہ کہ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
اس مسودے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس میں سیاسی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کچھ زیادہ نہیں کیا گیا۔
صدر مرسی نےانہوں نے بائیس نومبر کو ایک فرمان کے ذریعے اپنے اختیارات میں اضافہ کر لیا تھا جن کے تحت عدالت ان کے جاری کردہ کسی فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتی۔
سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں نائب صدر نے کہا کہ یہ ریفرنڈم پہلے سے طے شدہ تاریخ یعنی پندرہ دسمبر کو ہی ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اس کے مخالف ہیں ان کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
ناقدین کا خیال ہے کہ آئین کا مسودہ جلد بازی اور بغیر مناسب مشاورت کے پارلیمان میں لے جایا گیا ہے اور سیاسی اور مذہبی آزادیوں اور عورتوں کے حقوق کے لیے اس میں کچھ خاص نہیں ہے۔
اس مسودے نے مل کر نومبر کے آخر میں ایک فرمان کے ذریعے اپنے اختیارات میں اضافہ کرنے کے فیصلے کے خلاف عوام میں غصے کو دوگنا کر دیا ہے۔ بدھ کو صدر مرسی کے چار مشیروں نے بھی احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے تین مشیر استعفیٰ دے چکے ہیں۔

 

بی بی سی نیوز

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago