Categories: مشرق وسطی

مصری پارلیمان نے نئے آئین کی منظوری دے دی

مصر کی پارلیمان نے ملک کے لیے نئے آئین کے مسودے کے منظوری دے دی ہے اور اسے اب صدر محمد مرسی کے پاس منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
پارلیمان نے جمعہ کی صبح تک جاری رہنے والے ایک طویل اجلاس کے دوران مسودے کی تمام دو سو چونتیس شقوں پر رائے شماری کی اور انہیں منظور کیا۔
اس عمل کے بعد اب ضروری ہے کہ اس منظور کردہ مسودے کی توثیق صدر مرسی کریں جس کے بعد اس پر ایک عوامی ریفرینڈم کروایا جائے گا۔
جمعرات کی شام مصر کی پارلیمان نے اس نئے تحریر کردہ آئین پر ووٹنگ شروع کی تھی جس کے پہلے قدم کے طور پر اسمبلی نے شریعت کو قانون سازی کا بنیادی ماخذ قرار دیا تھا۔
اس سے پہلے آئین ساز عدالت نے کہا تھا کہ وہ اتوار کو یہ فیصلہ دے گی کہ آیا اسمبلی کو تحلیل کیا جائے یا نہیں۔
مصر کی عدلیہ اس وقت صدر محمد مرسی کے خلاف محاذ آرا ہے جنھوں نے اپنے آپ کو نئی طاقتیں تفویض کر دی تھیں۔ ان کے اس فیصلے کے بعد سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
آزاد خیال، بائیں بازو والے اور عیسائی اراکین اسمبلی نے یہ کہہ کر اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے کہ اسلام پسند مصر پر اپنا تصورِ اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
مصر کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اب تک منظور کی جانے والی شقوں کے مطابق اسلام ملک کا مذہب ہے اور شریعت کے اصول ’قانون سازی کا بنیادی ماخذ‘ ہیں۔
اس سے پہلے صدر حسنی مبارک کے دور میں بننے والے آئین میں بھی یہی درج تھا۔
سلفی جماعت اور صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمون کے بعض ارکان لفظ ’اصول‘ کو ’قانون‘ سے بدلنے میں ناکام رہے ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عیسائیت اور یہودیت مصری عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے قانون سازی کے بنیادی ماخذ ہوں گے۔
اسمبلی نے ایک نئی شق بھی منظور کی ہے جس میں شریعت کے معاملات میں جامعۂ اظہر سے رہنمائی حاصل کرنا لازمی ہو گا۔
حکام نے اسمبلی کو بدھ کے روز بتایا تھا کہ وہ آئین کے مسودے کو آخری شکل دے رہے ہیں، تاہم صدر مرسی نے آئین سازی کی حتمی تاریخ کو فروری تک بڑھا دیا تھا۔
اسمبلی مسودے میں شامل تمام 234 شقوں پر رائے شماری کرے گی۔ پھر اسے صدر مرسی کے پاس منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ اس کے بعد اس پر ریفرنڈم کروایا جائے گا۔
قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لین کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں آئین سازی تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔
حزبِ اختلاف کے رہنما اور عرب لیگ کے سابق سربراہ عمرو موسیٰ نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’موجودہ اسمبلی میں پائے جانے والے غصے اور ناراضگی کے پیشِ نظر یہ ایک بے تکا قدم ہے۔‘

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago