لبنان کے سکیورٹی ذرائع اور ایک عالم دین نے ان کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ایک سکیورٹی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ”ایک فلسطینی اور اکیس لبنانی نوجوان جمعہ کی صبح لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع صوبہ حمص کے علاقے میں باغیوں کے ساتھ مل کر شامی فورسز کے خلاف لڑنے کے لیے گئے تھے اور یہ وہاں گھیرے میں آگئے تھے”۔
طرابلس کے ایک عالم دین نے بتایا ہے کہ ”شہر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان جمعہ کی صبح شام میں لڑائی کے لیے گئے تھے۔ان پر تلکلخ میں شامی فوج نے اچانک حملہ کردیا اور وہ مارے گئے ہیں”۔
اس اسلامی رہ نما نے اس واقعہ کی تھوڑی سی مختلف تفصیل بھی بیان کی ہے اور شام سے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ ”ان لبنانی نوجوانوں کو کسی لڑائی میں نہیں مارا گیا بلکہ انھیں پکڑنے کے بعد قطار میں کھڑا کرکے گولیوں سے اڑا دیا گیا”۔
دوسری جانب لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اپنے طور پر اطلاع دی ہے کہ ”تیس باغیوں پر مشتمل ایک گروپ کو تلکلخ کے نزدیک واقع تل سیرین کے علاقے میں شامی فوجیوں نے ایک حملے کے دوران گرفتار کر لیا تھا۔ان تمام افراد کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کو قیدی بنالیا گیا تھا یا ہلاک کردیا گیا ہے”۔
طرابلس کے سنی آبادی والے علاقے باب التبانہ سے تعلق رکھنے والے ایک اسلامی جنگجو نے اطلاع دی ہے کہ ان کے علاقے کے دوسگے بھائی بھی شامی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں اور وہ دونوں ایک عالم دین کے بیٹے تھے۔
لبنان کے ساحلی شہر طرابلس کی سنی اکثریتی آبادی شامی صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کی حمایت کررہی ہے جبکہ لبنان ہی سے تعلق رکھنے والی شیعہ ملیشیا حزب اللہ شامی صدر کی حامی ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق اس کے سیکڑوں جنگجو شامی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ وہاں لبنان کے اہل سنت سے تعلق رکھنے والے بائیس نوجوانوں کی اس طرح شامی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔شامی حکومت ماضی میں متعدد مواقع پرغیر ملکی جنگجوؤں پر ملک میں خونریزی کو ہوا دینے اور باغیوں کے شانہ بشانہ لڑنے کا الزام عاید کرچکی ہے جبکہ مغربی حکومتیں بھی شام میں غیرملکی جہادیوں کی موجودگی کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔اسی وجہ سے مغربی ممالک اب تک شامی باغیوں کی کھل کر حمایت سے گریزاں ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…