صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبردرانی نے سوموار کو کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کی رات ایران کی طرف سے فائر کیے گئے گولے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر واقع ضلع چاغی میں آ کر گرے تھے۔ تاہم ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ صوبائی وزارت داخلہ نے وزارت خارجہ کو اس واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کردیا ہے۔ پاکستانی حکام نے ایران کے سرحدی حکام سے سرکاری سطح پر اس بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج کیا ہے اور اس واقعہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے دونوں ممالک کے سرحدی حکام کا منگل کو اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارٹر گولوں کے ہدف اور انھیں فائرکرنے کے مقصد کا ابھی تک پتا نہیں چل سکا۔ایران سے فائرکیے گئے گولے چاغی کے علاقے لشکرآب میں گرے تھے۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی ایران کے سرحدی صوبہ سیستان، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے جنگجو تنظیم جند اللہ کے خلاف کارروائی کے دوران پاکستان کے سرحدی علاقے کی خلاف ورزی کی تھی اور اس پر پاکستان نے ایران سے شدید احتجاج کیا تھا۔
اسلام آباد/کوئٹہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار