صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبردرانی نے سوموار کو کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کی رات ایران کی طرف سے فائر کیے گئے گولے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر واقع ضلع چاغی میں آ کر گرے تھے۔ تاہم ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ صوبائی وزارت داخلہ نے وزارت خارجہ کو اس واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کردیا ہے۔ پاکستانی حکام نے ایران کے سرحدی حکام سے سرکاری سطح پر اس بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج کیا ہے اور اس واقعہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے دونوں ممالک کے سرحدی حکام کا منگل کو اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارٹر گولوں کے ہدف اور انھیں فائرکرنے کے مقصد کا ابھی تک پتا نہیں چل سکا۔ایران سے فائرکیے گئے گولے چاغی کے علاقے لشکرآب میں گرے تھے۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی ایران کے سرحدی صوبہ سیستان، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے جنگجو تنظیم جند اللہ کے خلاف کارروائی کے دوران پاکستان کے سرحدی علاقے کی خلاف ورزی کی تھی اور اس پر پاکستان نے ایران سے شدید احتجاج کیا تھا۔
اسلام آباد/کوئٹہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید