صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبردرانی نے سوموار کو کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کی رات ایران کی طرف سے فائر کیے گئے گولے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر واقع ضلع چاغی میں آ کر گرے تھے۔ تاہم ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ صوبائی وزارت داخلہ نے وزارت خارجہ کو اس واقعہ کی تفصیل سے آگاہ کردیا ہے۔ پاکستانی حکام نے ایران کے سرحدی حکام سے سرکاری سطح پر اس بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج کیا ہے اور اس واقعہ سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے دونوں ممالک کے سرحدی حکام کا منگل کو اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارٹر گولوں کے ہدف اور انھیں فائرکرنے کے مقصد کا ابھی تک پتا نہیں چل سکا۔ایران سے فائرکیے گئے گولے چاغی کے علاقے لشکرآب میں گرے تھے۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی ایران کے سرحدی صوبہ سیستان، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے جنگجو تنظیم جند اللہ کے خلاف کارروائی کے دوران پاکستان کے سرحدی علاقے کی خلاف ورزی کی تھی اور اس پر پاکستان نے ایران سے شدید احتجاج کیا تھا۔
اسلام آباد/کوئٹہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…