انھوں نے یہ بات اتوار کو ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہی ہے۔ اس کے مطابق ”صدر مرسی سابق حکومت اور عبوری دور کے جرائم اور بدعنوانیوں میں ملوث عہدے داروں اور اہلکاروں کا احتساب چاہتے ہیں”۔
صدارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ”سابق حکومت اور عبوری دور میں بدعنوانیوں کے علاوہ دوسرے جرائم کے ذمے داروں کے مواخذے کے لیے یہ اعلامیہ ضروری تھا”۔
درایں اثناء مصر کے سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ وزیر انصاف احمد مکی نے ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان پیدا ہونے والے بحران کے خاتمے کے لیے مصالحتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ صدر مرسی کی جانب سے اپنے فیصلوں اور احکامات کو کسی عدالتی نظرثانی سے ماورا قرار دینے کے لیے فرمان کے اجراء سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے کوششں شروع کی گئی ہے۔
سرکاری ٹی وی نے بتایا ہے کہ وزیر انصاف محمد مکی نے قاہرہ میں سپریم کورٹ کے ہیڈکوارٹرز میں ایک اجلاس طلب کیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیر موصوف یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے صدر مرسی کے جاری کردہ حکم نامے کے بارے میں کچھ تحفظات ہیں۔
اس اجلاس کے چند گھنٹے کے بعد مصر کی سپریم جوڈیشل کونسل نے جج صاحبان سے کہا تھا کہ وہ دوبارہ اپنا عدالتی کام شروع کر دیں۔ ججوں کے کلب نے گذشتہ روز صدارتی فرمان کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے ہڑتال کر دی تھی۔
مصری صدر نے جمعرات کو جاری کردہ فرامین میں سے ایک میں کہا تھا کہ ”صدر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جو بھی فیصلے کیے، قوانین اور اعلامیے منظور کیے، انھیں عدلیہ سمیت کوئی بھی اتھارٹی منسوخ نہیں کر سکتی اور نہ ان کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے”۔
انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ”مصر کی دستور ساز اسمبلی اور پارلیمان کے ایوان بالا شوریٰ کونسل کو عدلیہ سمیت کوئی بھی اتھارٹی تحلیل نہیں کر سکتی”۔ اس صدارتی فرمان پر سب سے زیادہ تنقید کی جا رہی ہے اور اسے عدلیہ پر قدغنیں لگانے کے علاوہ ملک میں آمریت کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حکم نامے کے بعد صدر محمد مرسی کے مخالفین نے انھیں ”فرعونِ جدید” کے خطاب سے نوازا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مصر کے مطلق العنان اور سابق صدر حسنی مبارک سے بھی زیادہ بااختیار صدر بن گئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…