افغان پولیس اہلکاروں کی اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں ہلاکت کا یہ واقعہ ضلع گریشک میں پیش آیا ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان احمد ضریق نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا ہے کہ ”ایک باورچی اور ایک پولیس اہلکار نے پہلے اپنے ساتھی اہلکاروں کے کھانے میں زہر ملا دیا۔ جب وہ بے ہوش ہو گئے تو انھوں نے ان سب کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا”۔
ترجمان نے بتایا کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے، البتہ باورچی ابھی مفرور ہے۔ ہلمند پولیس کے ترجمان فرید احمد فرہنگ نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب طالبان کے خود ساختہ ترجمان قاری یوسف احمدی نے اس واقعہ کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ فائرنگ سے آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں اور ان کا اسلحہ چھین لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جنگ زدہ ملک میں اس سال افغان سکیورٹی اہلکاروں کے حملوں میں ان کے اپنے ہی پیٹی بھائیوں اور غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس طرح کے حملوں کے طالبان کے جاسوسوں اور ان کے حامیوں پر الزامات عاید کیے جا چکے ہیں۔ افغان سکیورٹی اہلکاروں کے حملوں میں اب تک پچاس سے زیادہ غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر امریکی ہیں۔
کابل
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…