افغان پولیس اہلکاروں کی اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں ہلاکت کا یہ واقعہ ضلع گریشک میں پیش آیا ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان احمد ضریق نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا ہے کہ ”ایک باورچی اور ایک پولیس اہلکار نے پہلے اپنے ساتھی اہلکاروں کے کھانے میں زہر ملا دیا۔ جب وہ بے ہوش ہو گئے تو انھوں نے ان سب کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا”۔
ترجمان نے بتایا کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے، البتہ باورچی ابھی مفرور ہے۔ ہلمند پولیس کے ترجمان فرید احمد فرہنگ نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب طالبان کے خود ساختہ ترجمان قاری یوسف احمدی نے اس واقعہ کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ فائرنگ سے آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں اور ان کا اسلحہ چھین لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جنگ زدہ ملک میں اس سال افغان سکیورٹی اہلکاروں کے حملوں میں ان کے اپنے ہی پیٹی بھائیوں اور غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس طرح کے حملوں کے طالبان کے جاسوسوں اور ان کے حامیوں پر الزامات عاید کیے جا چکے ہیں۔ افغان سکیورٹی اہلکاروں کے حملوں میں اب تک پچاس سے زیادہ غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر امریکی ہیں۔
کابل
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار