سرکاری ٹی وی کے مطابق زور دار دھماکے کے بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور کچھ دیر تک فائرنگ بھی ہوتی رہی۔ تاہم ذرائع کے مطابق یہ فائرنگ مقامی قبائل یا سیکورٹی فورسز کی طرف سے کی گئی۔ سات لاشوں اور دو بچوں سمیت تئیس زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے۔ پانچ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
درہ آدم خیل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ایف خان آفریدی نے میڈیا پر ہسپتال میں آٹھ لاشیں لائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ دھماکے کے بعد حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار کے مطابق حملے میں امن لشکر کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…