شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ترکی کے مسافر بردار طیاروں پر شامی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔
یہ فیصلہ بدھ کے روز ترکی کی جانب سے شامی ایئر لاین کے مسافر طیارے کو ماسکو سے دمشق جاتے ہوئے انقرہ میں اترنے پر مجبور کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔
ترکی کا دعٰوی ہے کہ اس طیارے میں شامی فوج کے لیے روسی ہتھیار لیجائے جا رہے تھے۔
شامی وزارتِ خارجہ نے سرکاری ٹی وی پر یہ اعلان کیا ہے کہ یہ پابندی سنیچر کی شب سے شروع ہو رہی ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر دو طرفہ فائرنگ کے واقعات کے بعد سے تعلقات کشیدہ ہیں۔
ترکی اور شام کے باہمی تعلقات گزشتہ ہفتے شامی مارٹر گولہ گرنے سے پانچ ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد زیادہ کشیدہ ہوئے ہیں۔ اس حملے کے بعد ترک فوج نے بھی شامی علاقے پرگولہ باری کی تھی۔
ترکی کی حکومت نے شامی حزبِ اختلاف کی حمایت کی ہے اور صدر بشارالسد کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
شامی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اپنی فضائی حدود میں ترکی کے طیاروں کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ انقرہ کی جانب سے ایسے ہی اقدام کے جواب میں کیا گیا ہے۔
ترکی نے کسی طرح کی پابندی کا اعلان تو نہیں کیا تاہم یہ کہا ہے کہ اگر اسے شبہ ہوا تو وہ ایک بار پھر شامی طیاروں کو اترنے پر مجبور کرے گا۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…