غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق 2 امریکی فوجیوں نے جولائی 2011 میں افغانستان کے صوبے ہلمند میں 3 طالبان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی تھی اور غیر مہذب ویڈیو اور تصویریں بنائی تھیں۔
واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد امریکی فوجیوں کے خلاف تحقیقات شروع کی گئیں اور جرم ثابت ہونے پر دو فوجیوں کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لاشوں کی بے حرمتی کے واقعے پر افغانستان میں شدید احتجاج ہوا تھا اور امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے واقعے کی مذمت کی تھی اور افغانستان سے معافی بھی مانگی تھی۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید