ایران میں انٹرنیٹ کے صارفین نے بتایا ہے کہ گوگل کے سرچ صفحے گوگل ڈاٹ کام تک رسائی بھی محدود کردی گئی ہے اور اس کے محفوظ پروٹوکول https://www.google.com کو استعمال کرنے والوں کی بھی اس صفحے تک رسائی نہیں ہورہی تھی اور اس کو بھی بلاک کردیا گیا ہے۔
گوگل پر پابندی لگانے کی اطلاع ایران کے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کے ایک مشیر عبدالصمد خرم آبادی کی جانب سے موبائل فون پر بھیجے گئے ٹیکسٹ میسج کے ذریعے دی گئی ہے۔
اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ ”عوام کے بار بار تقاضے کے بعد گوگل اور جی میل کو اب ملک بھر میں فلٹر کیا جائے گا اور یہ سلسلہ تاحکم ثانی جاری رہے گا”۔
تاہم گوگل کی سروسز تک ہر ملک میں رسائی کا سراغ لگانے والی ویب سائٹ سے یہ ظاہر نہیں ہورہا ہے کہ اس کی سروسز کو ایران میں بلاک کیا گیا ہے لیکن تہران کے متعدد مکینوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ وہ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کو استعمال کیے بغیر اپنے گوگل اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔
ایران کے بہت سے کاروباری افراد غیرملکی کمپنیوں سے برقی مراسلت اور ان سے دستاویزات کے تبادلے کے لیے جی میل کواستعمال کرتے ہیں۔ایرانی حکام نے اس سے پہلے فروری میں بھی عارضی طور پر گوگل اور جی میل تک رسائی بند کردی تھی۔
گوگل کی ویڈیو شئیرنگ کی مقبول ویب سائٹ یوٹیوب کو 2009ء سے وقتاً فوقتاً بند کیا جاتا رہا ہے۔اسی انٹرنیٹ سائٹ پر اُس سال کے وسط میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں دھاندلیوں سے متعلق ویڈیوز کو اپ لوڈ کیا جاتا رہا ہے۔ایران میں سماجی روابط کی ویب سائٹس ٹویٹر اور فیس بُک کو بھی گاہے گاہے بلاک کیا جا رہا ہے۔
ایران اس وقت اپنے قومی انٹرانیٹ کے قیام پر کام کررہا ہے جو ایرانی حکام کے بہ قول غیر اسلامی مواد سے پاک ہوگا،تیزرفتار اور محفوظ ہوگا۔تاہم اس کے ذریعے صارفین کے ڈیٹا کو بھی آسانی سے مانیٹر کیا جاسکے گا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید