پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک منی بس میں غیر ملکی ائر پورٹ کی طرف جا رہے تھے کہ اس دوران ایک خودکش حملے میں بس کو ہدف بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق منی بس کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام کرنے والے غیر ملکی سٹاف کو لے کر جا رہی تھی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور مقامی میڈیا کے مطابق افغان عسکریت پسند گروپ حزبِ اسلامی نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
رائٹرز نے حزبِ اسلامی کے ایک ترجمان زبیر صدیقی کے حوالے سے بتایا ہے کہ’اسلام مخالف فلم کے ردعمل میں ایک خودکش حمہ آور خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور ایک اورگاڑی میں سوار تھا اور بظاہر اس نے منی بس کو ہدف بنایا۔
کابل پولیس کے سربراہ محمد ایوب سولنگی کا کہنا ہے کہ لازمی طور پر خودکش حملہ آور منی بس کا تعاقب کر رہا تھا۔
انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ہلاکتیں زیادہ ہوئیں ہیں۔‘
پولیس سربراہ نے ہلاک ہونے والے افراد کی شہریت کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔
خودکش حملے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار پہنچ گئے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان