پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک منی بس میں غیر ملکی ائر پورٹ کی طرف جا رہے تھے کہ اس دوران ایک خودکش حملے میں بس کو ہدف بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق منی بس کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام کرنے والے غیر ملکی سٹاف کو لے کر جا رہی تھی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور مقامی میڈیا کے مطابق افغان عسکریت پسند گروپ حزبِ اسلامی نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
رائٹرز نے حزبِ اسلامی کے ایک ترجمان زبیر صدیقی کے حوالے سے بتایا ہے کہ’اسلام مخالف فلم کے ردعمل میں ایک خودکش حمہ آور خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور ایک اورگاڑی میں سوار تھا اور بظاہر اس نے منی بس کو ہدف بنایا۔
کابل پولیس کے سربراہ محمد ایوب سولنگی کا کہنا ہے کہ لازمی طور پر خودکش حملہ آور منی بس کا تعاقب کر رہا تھا۔
انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ہلاکتیں زیادہ ہوئیں ہیں۔‘
پولیس سربراہ نے ہلاک ہونے والے افراد کی شہریت کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔
خودکش حملے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار پہنچ گئے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…