پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک منی بس میں غیر ملکی ائر پورٹ کی طرف جا رہے تھے کہ اس دوران ایک خودکش حملے میں بس کو ہدف بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق منی بس کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام کرنے والے غیر ملکی سٹاف کو لے کر جا رہی تھی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور مقامی میڈیا کے مطابق افغان عسکریت پسند گروپ حزبِ اسلامی نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
رائٹرز نے حزبِ اسلامی کے ایک ترجمان زبیر صدیقی کے حوالے سے بتایا ہے کہ’اسلام مخالف فلم کے ردعمل میں ایک خودکش حمہ آور خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور ایک اورگاڑی میں سوار تھا اور بظاہر اس نے منی بس کو ہدف بنایا۔
کابل پولیس کے سربراہ محمد ایوب سولنگی کا کہنا ہے کہ لازمی طور پر خودکش حملہ آور منی بس کا تعاقب کر رہا تھا۔
انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ہلاکتیں زیادہ ہوئیں ہیں۔‘
پولیس سربراہ نے ہلاک ہونے والے افراد کی شہریت کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔
خودکش حملے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار پہنچ گئے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار