العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کراسنگ پر ڈیوٹی دینے والا عملہ آنے جانے والوں کے پاسپورٹس پر انٹری اور ایگزٹ کی مہر لگا رہا ہے۔ سرحدی پھاٹک کے آر پار جانے والوں کے ناموں کی ڈیٹا انٹری کی جاتی ہے۔ ساری آمد و رفت کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے تاکہ بحران کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنا گھربار چھوڑنے والوں کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔ نیز غیر شامی عناصر کے غیر قانونی دراندازی کو روکا جا سکے۔
جیش الحر نے سرحدی کراسنگز پر سخت قوانین نافذ کر رکھے ہیں جس سے سرحد کے آر پار جانے والوں کو سابقہ اور جیش الحر کے افسروں کے درمیان واضح فرق دیکھنے کو آ رہا ہے۔ پہلے بارڈر کراسنگز پر رشوت کا بازار گرم رہتا تھا۔ آنے جانے والوں سے بدسلوکی بشار الاسد کے حامی فوجیوں کا عمومی شیوا ہوا کرتا تھا۔ جیش الحر نے لوٹ کھسوٹ کے اس سابقہ نظام کو ایماندار افسروں کی تعیناتی سے تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ سسٹم کی تبدیلی کی علامت کے طور پر جیش الحر نے شام کا پرچم اتار کر سرحدی کراسنگ پر ہلال استقلال لہرا رکھا ہے، جو واضح طور پر سابقہ نظام کی تبدیلی کا مظہر ہے۔
بشار الاسد کی گولا باری سے بچ کر ترکی میں محفوظ مقام کی تلاش کے لئے “السلامۃ کراسنگ” ہی سے گذر کر ہزاروں افراد ہمسایہ ملک داخل ہوتے رہے ہیں اور دونوں ملکوں کی سرحد پر واقع کراسنگز میں یہی ایک سب سے زیادہ منظم جگہ ہے۔
محمد دغمش
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…