العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کراسنگ پر ڈیوٹی دینے والا عملہ آنے جانے والوں کے پاسپورٹس پر انٹری اور ایگزٹ کی مہر لگا رہا ہے۔ سرحدی پھاٹک کے آر پار جانے والوں کے ناموں کی ڈیٹا انٹری کی جاتی ہے۔ ساری آمد و رفت کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے تاکہ بحران کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنا گھربار چھوڑنے والوں کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔ نیز غیر شامی عناصر کے غیر قانونی دراندازی کو روکا جا سکے۔
جیش الحر نے سرحدی کراسنگز پر سخت قوانین نافذ کر رکھے ہیں جس سے سرحد کے آر پار جانے والوں کو سابقہ اور جیش الحر کے افسروں کے درمیان واضح فرق دیکھنے کو آ رہا ہے۔ پہلے بارڈر کراسنگز پر رشوت کا بازار گرم رہتا تھا۔ آنے جانے والوں سے بدسلوکی بشار الاسد کے حامی فوجیوں کا عمومی شیوا ہوا کرتا تھا۔ جیش الحر نے لوٹ کھسوٹ کے اس سابقہ نظام کو ایماندار افسروں کی تعیناتی سے تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ سسٹم کی تبدیلی کی علامت کے طور پر جیش الحر نے شام کا پرچم اتار کر سرحدی کراسنگ پر ہلال استقلال لہرا رکھا ہے، جو واضح طور پر سابقہ نظام کی تبدیلی کا مظہر ہے۔
بشار الاسد کی گولا باری سے بچ کر ترکی میں محفوظ مقام کی تلاش کے لئے “السلامۃ کراسنگ” ہی سے گذر کر ہزاروں افراد ہمسایہ ملک داخل ہوتے رہے ہیں اور دونوں ملکوں کی سرحد پر واقع کراسنگز میں یہی ایک سب سے زیادہ منظم جگہ ہے۔
محمد دغمش
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار