غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صوبائی اسمبلی کے چیئرمین محمد ابراہیم اخونزادہ نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی پولیس نے اپنے کمانڈر شیو جائی کے حکم پر ماتا کرو کے علاقے میں گیارہ پشتون شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمانڈرز کو غیر ملکی فوج کی بھی معاونت حاصل ہے اور ضلعی انتظامیہ اس کے مقبوضہ بیک گرائونڈ کے باعث اسے گرفتار نہیں کر سکتی۔
انہوں نے صدر حامد کرزئی سے مطالبہ کیا کہ وہ پولیس کمانڈر شیو جائی کو گرفتار کر کے اسکے خلاف قانونی کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو علاقے میں صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شیو جائی نے بڑی تعداد میں شہریوں کو گرفتار کر کے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے۔
دریں اثناء وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ میں چھ طالبان ہلاک ہوئے تھے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید