غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صوبائی اسمبلی کے چیئرمین محمد ابراہیم اخونزادہ نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی پولیس نے اپنے کمانڈر شیو جائی کے حکم پر ماتا کرو کے علاقے میں گیارہ پشتون شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمانڈرز کو غیر ملکی فوج کی بھی معاونت حاصل ہے اور ضلعی انتظامیہ اس کے مقبوضہ بیک گرائونڈ کے باعث اسے گرفتار نہیں کر سکتی۔
انہوں نے صدر حامد کرزئی سے مطالبہ کیا کہ وہ پولیس کمانڈر شیو جائی کو گرفتار کر کے اسکے خلاف قانونی کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو علاقے میں صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شیو جائی نے بڑی تعداد میں شہریوں کو گرفتار کر کے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے۔
دریں اثناء وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ میں چھ طالبان ہلاک ہوئے تھے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…