غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صوبائی اسمبلی کے چیئرمین محمد ابراہیم اخونزادہ نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی پولیس نے اپنے کمانڈر شیو جائی کے حکم پر ماتا کرو کے علاقے میں گیارہ پشتون شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کمانڈرز کو غیر ملکی فوج کی بھی معاونت حاصل ہے اور ضلعی انتظامیہ اس کے مقبوضہ بیک گرائونڈ کے باعث اسے گرفتار نہیں کر سکتی۔
انہوں نے صدر حامد کرزئی سے مطالبہ کیا کہ وہ پولیس کمانڈر شیو جائی کو گرفتار کر کے اسکے خلاف قانونی کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو علاقے میں صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شیو جائی نے بڑی تعداد میں شہریوں کو گرفتار کر کے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے۔
دریں اثناء وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ میں چھ طالبان ہلاک ہوئے تھے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام