انہوں نے کہا: خاندان سب سے اہم معاشرتی ستون ہے اور اس کی اہم ترین ذمہ داری اولاد کی صحیح تربیت ہے جو دراصل ایک صالح معاشرے کی تاسیس کاکام ہے۔ موجودہ حالات میں جب نئے آلات کی ترقی کی رفتار ناقابل تصور بن چکی ہے بعض معاشرے صنعتی و ماڈرن ہیں جبکہ بعض روایتی حالت پر ہیں۔ دوسری جانب بعض معاشرے روایتی سے ماڈرن بننے کی جانب رواں دواں ہیں جیسا کہ ہمارا معاشرہ۔ تغیرات کی تیز رفتاری اور مختلف شعبوں کی ترقی میں ہم آہنگی کا فقدان مسائل کا باعث بنے ہیں۔ اس سے خاندانی نظام اور تعلیم کا شعبہ خطروں کے شکار ہوگئے ہیں۔
ڈاکٹر مجاہد نے مزیدکہا: جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے؛ اس حوالے سے معین اعداد وشمار پیش نہیں کیے جاسکتے لیکن جو کچھ مشاہدے میں آرہاہے بلاشبہ سب کیلیے لمحہ فکریہ ہے۔ منشیات کا استعمال عام ہوتا جارہاہے؛ حتی کہ کم سن بچے اور سکولوں کے طلبہ اس میں مبتلا ہیں، بہت ساری بچیاں الکحل اور منشیات کے استعمال میں ملوث ہیں۔ خاندانی حدود سے باہر ناجائز تعلقات کی وجہ سے دسیوں جرائم جنم لے رہے ہیں۔ گھر سے فرارہونا، طلاق، خودکشی اور حرمتوں کی پامالی کے بڑھتے ہوئے واقعات حکام اور عوام کیلیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: کوئی یہ مت سوچے کہ ’موت صرف پڑوسی کیلیے ہے‘ اور مسائل صرف دوسروں پر آتے ہیں، اپنے بچوں سے غافل نہ رہیں؛ ہم ہرلمحے میں خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ بعض مذہبی گھرانوں میں ایسا ہوتاہے کہ کئی دن گزرجاتاہے اور وہ اپنے بچوں سے بے خبر ہیں یہاں تک کہ معلوم ہوتاہے بیٹا کسی تھانے میں قید ہے۔ بے حسی عام ہوچکی ہے اور لوگ غفلت کا شکار ہیں۔ ہم آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ وہ جنت کے نازو نعمت میں تھے اور اللہ سے رابطہ میں تھے لیکن اس کے باوجود ان سے خطا سرزد ہوئی۔ لہذا تمام بنی آدم سے غلطی ظاہر ہوسکتی ہے۔
مجاہد نے کہا کہ ہم اس غلط فہمی میں ہیں کہ ہماری اولاد ہماری طرح ترقی کررہی ہیں اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن یاد رکھیں انسان کی ترقی منصوبہ بندی اور بعض نکات کی خیال داری سے ممکن ہے۔ انسان شدت سے نگرانی اور تعلیم و تعلم کا محتاج ہے۔ بچوں کے سکول چھوڑنے کو معمولی مسئلہ مت سمجھیں۔ بچے پودوں کی طرح نگرانی و آبیاری کے محتاج ہیں۔ ان سے پیار کریں۔ مسلسل پیار کرنے سے بچوں کا حوصلہ بلند ہوتاہے اور وہ کسی اور جگہ سے پیار کی بھیک نہیں مانگیں گے۔ ایک مسڈکال یا ایس ایم ایس سے کوئی انہیں نہیں ورغلاسکتا۔
بعض احادیث سے استدلال کرتے ہوئے انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپﷺ حضرات حسن وحسین کو بوسہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے کہا: میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے کسی کو ہرگز بوسہ نہیں دیاہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’من لایرحم لایْرحم‘، جو رحم نہ کرے اس پر رحم نہیں ہوگا۔ آپﷺ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔
ڈاکٹرمجاہد نے مزیدکہا: پیار کا تحفہ دینے کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کیلیے ایک نظام الاوقات بنایاجائے۔ سنجیدگی سے بچوں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھیں۔ نگرانی کرنا صحیح تربیت کیلیے ناگزیر ہے۔ آپ کی نگرانی احترام و شفقت کے ساتھ ہو۔ کہیں ان کے احساسات کو ٹھیس نہ پہنچے اور وہ ترقی کی منازل بآسانی طے کریں۔
انہوں نے کہا: آج کل ہمارے اختیار میں بہت سارے نت نئے آلات ہیں، ہمیں معلوم ہونا چاہیے کیسے ان کا صحیح فائدہ اٹھائیں۔ جب ہمارے بچے بنددروازوں کے پیچھے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھتے ہیں اور خلوت میں جدید آلات کا استعمال کرتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ انٹرنیٹ ایک وسیع دنیا ہے جو ہمارے بچوں کو سخت خطروں میں بھی ڈال سکتاہے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا: اپنے بچوں کو ’نہیں‘ کہنا سکھائیں۔ بعض اوقات اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کہ انہیں نصیحت کریں خود ان کیلیے نمونہ اور اسوہ بن جائیں۔ والدین حلال و حرام کاخیال رکھیں تا کہ بچہ ان سے سیکھے۔ جو خود سیگریٹ پیتا ہے وہ اپنے بچوں کو کیسے منع کرے۔
آخرمیں فارغ التحصیل طلبا کو مخاطب کرکے ڈاکٹر مجاہد نے کہا: لوگوں کی تربیتی و تبلیغی تعلیم آپ کی ذمہ داری ہے۔ لہذا موجودہ دور کی زبان سیکھیں اور اپنے تعلقات بڑھائیں۔ رات میں خلوت و ریاضت نفس میں لگ جائیں اور دن کو عوام کی اصلاح کیلیے محنت کریں۔ اب خاندان، بہن اور بیٹی و ماں گھر کی حدود میں محصور نہیں ہیں، انہیں پبلک مقامات پر آپ دیکھتے ہیں، بازاروں اور مختلف اداروں میں خواتین نظر آتی ہیں۔ اس لیے ان کی اصلاح و تربیت کیلیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انہیں دینی مراکز میں لاکر تعلیم دلوانا چاہیے تاکہ ترقی حاصل کریں۔ بعض تبدیلیاں غیرمعمولی ہیں اور نقصان کا باعث بنتی ہیں، اس لیے اعتدال شرط ہے۔ ماؤں کی تعلیم و تربیت اہم ترین مسئلہ ہے، اس پر توجہ دینی چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…