’مغرب ہمارے مدارس ومساجد سے خوفزدہ نہ ہو‘

اکیسویں تقریب ختم بخاری دارالعلوم زاہدان کے دوسرے خطیب ممتاز سرگرم تبلیغی کارکن مولانا حافظ محمدکریم صالح تھے۔ انہوں نے اپنے بیان کا آغاز قرآن پاک کی آیت: «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ» و آیه «وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُوْلَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلاَّ خَآئِفِينَ لهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ» اور حدیث مبارکہ: «من بنی لله مسجدا بنی الله له بیتا فی الجنة» کی تلاوت سے کیا۔

حافظ محمدکریم صالح نے کہا: ترقی اور نور کا پہلا مرکز کعبہ مشرفہ ہے جبکہ قرآن پاک دوسرا ہے۔ قرآن مجید انسانیت کی ہدایت و ترقی کا بہترین مرکز ہے۔ ان دو مراکز کے بغیر انسان سعادت و کامیابی پا ہی نہیں سکتا۔

انہوں نے مزید کہا: جیساکہ مادی اشیا کو روشنی کے بغیر نہیں دیکھی جاسکتی، اس کیلیے آنکھوں کا نور اور فضا کی روشنی ضروری ہے۔ اگر کسی کی آنکھیں ٹھیک ہوں لیکن فضا میں اندھیراپن ہو تو دوست کو دشمن سے تمیز کرنا ناممکن ہوگا۔ اسی طرح معنویات کے حصول کیلیے دو نوروں کا ہونا ضروری ہے؛ ایک کعبۃ اللہ اور مساجد کا نور، دوسرا کتاب اللہ کا۔ ان انوار کی برکت سے بندہ اپنے دشمن یعنی شیطان کو پہچان سکے گا۔

ممتاز سنی عالم دین نے مزیدکہا: امت کو نبی کریم ﷺ نے یہ سبق دیا کہ اللہ کے سوا کوئی ذات یا شی عبادت و پوجا کرنے کے لائق نہیں ہے۔ لیکن جو عبادت علم کی روشنی و نور سے عاری ہو بندے کو نجات نہیں دلاسکتی بلکہ ناکامی ہی ایسے افراد کا مقدر ہوگا۔ جیسا کہ عبدالرحمن بن ملجم ایک عابد شخص تھا، چالیس دن روزہ رکھ کر وہ اعتکاف میں تھا اور زمزم کے پانی سے روزہ کھولتا۔ لیکن علم دین کے نور سے محرومی کی وجہ سے اس کم بخت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سنگین جرم سرزد ہوا۔ اس سے معلوم ہوتاہے کامیابی کیلیے ظاہر و باطن کا علم ضروری ہے؛ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔

انہوں نے مزیدکہا: صدراسلام میں نبی کریمﷺ اور صحابہ کرامؓ سب مساجد کی تعمیر میں حصہ لیتے، باہمی مشارکت سے انہوں نے پہلے مرکز نور کی بنیاد رکھی۔ ارشاد نبوی ہے کہ جو شخص اللہ کے خاطر مسجد تعمیر کرے اللہ تعالی جنت میں اس کیلیے گھر بنائے گا۔ مساجد سے نور و ہدایت اور تقوا و محبت پھیلتی ہے۔ اللہ کی رحمتوں کی سب سے بڑی منزل مسجد ہے۔ مساجد امن و عظمت اور عزت کا درس دیتی ہیں؛ انہی مساجد سے امت کو برکت حاصل ہوتی ہے۔ اگر مساجد آباد ہوں تو گھر آباد ہوں گے۔ رسول اللہﷺ کی مسجد سے ایک ایسی تہذیب پھیل گئی جو آج تک انسانیت کی ضرورت ہے۔

تبلیغی جماعت کے سرگرم کارکن نے مساجد و مدارس لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے کہا: جس طرح مساجد تزکیہ واصلاح کے مراکز ہیں تعلیم و تعلم کے حلقے بھی وہاں لگتے ہیں۔ لہذا مساجد انسان کی نجات کیلیے ضروری ہیں تا کہ بندہ کامیابی پاسکے۔

اپنے بیان کے آخرمیں حافظ محمدکریم صالح نے مساجد اور قرآن پاک کو مسلمانوں کی ہدایت کیلیے دو ضروری نعمتیں قرار دیتے ہوئے اہل مغرب کو مخاطب کرکے کہا: اے اہل مغرب! ہمارے مدارس و مساجد سے خوفزدہ نہ ہوں، ہماری مسجدوں کا پیغام امن پسندی، محبت و بھائی چارہ، دوستی اور کامیابی ہے۔

SunniOnline.us

modiryat urdu

Share
Published by
modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago