انہوں نے اپنے بیان کا آغاز قرآن پاک کی آیت: «إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ» کی تلاوت اور علامہ اقبال کے چند فارسی اشعار سے کیا؛
آدمیت زار نالید از فرنگ زندگی هنگامه برچید از فرنگ
پس چه باید کرد ای اقوام شرق باز روشن می شود ایام شرق
در ضمیرش انقلاب آمد پدید شب گذشت و آفتاب آمد پدید
مولوی عبدالحکیم نے کہا: اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے ایک اہم اور عجیب نکتہ سامنے آتاہے جس نے تمام تاریخ نویسوں کو تعجب میں ڈالاہے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ تاریخ کے تمام تر عروج و زوال اور مخالف ہواؤں کے باوجود اسلام اپنے اصل پر قائم رہاہے اور افراط و انحراف سے ہٹ کر اپنی فطرت پر محفوظ چلا آیاہے۔ اسلام شدیدترین بحرانوں کا مقابلہ کرکے ہرقسم کی آزمائش سے کامیاب نکل آیاہے۔ دیگر مذاہب و ادیان تحریف کا شکار ہوگئے لیکن اسلام اپنی اصلی شکل میں باقی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اسلامی بیداری و شعور کا وجود ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ تمام ادیان کے انصاف پسند مذہبی روشن خیال، تجزیہ کار اور مورخ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔
نوجوان فاضل نے سوال اٹھایا: سوال یہ ہے کہ کن دلائل کی وجہ سے اسلام نے تحریف و گمراہی کے سامنے ڈٹ گیا؟ امام ابوالحسن علی ندویؒ نے اس سوال کا جواب یوں دیاہے: ’ہاں، اسلام نے ہر دور میں اپنی ابدیت اور ڈائینامک صفت کی وجہ سے تحریکوں کی پیدائش کا باعث بناہے؛ جب بھی مسلمان ایمان و عقیدہ میں کمزوری کا شکار ہوئے یا دشمنوں کی یلغار کا شکار بنے تو اسلام کی ابدیت نے ان کی مدد کی اور وہ بیدار ہوئے۔‘
موجودہ اسلامی شعور و بیداری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: موجودہ رونما ہونے والی بیداری کا تجزیہ کرنا چاہیے؛ اس کے بنیادی اسباب و محرکات کی تحقیق وقت کا تقاضا ہے۔ اس بیداری کی بنیادی وجہ اسلام ہی ہے۔ اسلام ایک زندہ، جامع، ہمہ جہت اور ہرزمان و مکان سے جوڑ لینے والا دین ہے۔ اسی تازگی و ابدیت کی وجہ سے ہے کہ جب بھی مسلم قومیں انحطاط و زوال کا شکار ہوتیں اور اخلاقی، سیاسی و معاشرتی مسائل سے دوچار ہوتیں تو اسلام انہیں نجات دلانے کیلیے میدان میں آتا اور ان کی آزادی پسندی، مزاحمت اور ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے احساس کو جگاتا رہتا۔
دوسری وجہ کی وضاحت کرتے ہوئے مولوی عبدالحکیم نے کہا: مخلص علمائے کرام اور داعیان دین کی دن رات محنتوں اور مخلصانہ مجاہدتوں کی برکت سے چند عشرے سے دنیا میں ایک انقلاب بپا ہے، مسلم قومیں جاگ اٹھی ہیں۔ علماء کی آہ سحر اور دن کی انتھک محنتوں کی وجہ سے موجودہ بیداری وجود میں آچکی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اس بیداری کی تیسری وجہ جابر حکام کا ظلم و جور ہے۔ ظالم حکمرانوں نے گزشتہ کئی صدیوں سے دینی جماعتوں اورتحریکوں پر سخت دباؤ ڈال رکھا تھ۔ انہیں بدترین صورت میں کچل دیاجاتا تھا۔ یہ حکمران اسلامی خلافت کے سقوط کے بعد برسر اقتدار آئے تھے اور درحقیقت مغرب کے آلہ کار تھے، مسلمانوں کی روزمرہ زندگی سے اسلام کا خاتمہ ان کا مشن تھا۔
فاضل عالم دین نے مزیدکہا: آج کل حکمران پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ اسلام رجعت پسندی کا درس دیتا ہے اور پتھر کے زمانے سے تعلق رکھتاہے؛ یہ لوگ جہاد کو اپنی سیاسی محفلوں میں دہشت گردی کی سب سے بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں اللہ کی رحمت کا تقاضا تھا کہ مسلم اقوام جاگ اٹھیں اور ایک بار پھر اسلام کی عزت و مجد کیلیے قیام کریں۔ سڑکوں پر شہدا خون میں لت پت ہورہے ہیں اور اسلامی بیداری کی خوشبو کی لہر نے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لیاہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اسلامی بیداری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان گوشہ نشینی سے گزر کر میدان میں کود پڑے، اب ان کی کوشش ہے کہ حرکت میں آکر فکری وعلمی اور سیاسی پختگی حاصل کریں اور خود کو تکمیل کے اعلی درجے تک پہنچائیں۔ مغربی تہذیب آج نہ صرف عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں غیرپسندیدہ بن چکی ہے؛ لوگوں کو پتہ چل گیا ہے کہ دین دشمن خیالات و مکاتب ان کی کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
آخر میں مولوی عبدالحکیم نے زور دیتے ہوئے کہا: اسلام ایک ابدی، جامع، ہمہ جہت اور ہر دور کیلیے موزون دین ہے جو انسان کے شبہات و مسائل کا بہترین تشفی بخش جواب دیتاہے۔ یہ ابدی دین عیسائی و اسلام دشمنوں کے اسلام، قرآن پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے زہرآلود پروپیگنڈوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتاہے۔
SunniOnline.us
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…