بیجنگ میں تعینات الجزیرہ انگلش کی نمائندہ ملیسا چان نے اپنے ویزے اور صحافتی دستاویزات کی تجدید کی درخواست دی تھی جو رد کر دی گئی۔
ملیسا چین میں سنہ دو ہزار سات سے صحافتی فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔
یہ ماضی قریب میں پہلا موقع ہے کہ چین کی جانب سےکسی غیر ملکی صحافی کے ویزے اور صحافتی دستاویزات کی تجدید نہیں کی گئی ہے۔
چینی حکام نے ملیسا چان کی جگہ کسی اور نامہ نگار کی تعیناتی کی درخواست بھی رد کر دی ہے تاہم الجزیرہ کا کہنا ہے کہ وہ چین سے رپورٹنگ کے لیے درخواست کرتا رہے گا۔
بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کے اس اقدام کو ملک میں کام کرنے والے غیر ملکی میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا۔
چین نے یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب وہ ایک دہائی کے دوران ایک مرتبہ ہی ہونے والی قیادت کی تبدیلی کے عمل کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ وقت ملک کی داخلی سیاست میں ایک حساس دور مانا جاتا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…