صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی صورت میں پاکستان سے اس کی سرزمین پر تمام عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائیاں کرنے کی توقع نہ رکھی جائے۔
کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی نے کہاامریکا اپنی انگلیاں ہم پر کیوں اٹھاتا ہے؟ یہ تو اپنا قصور کسی اور پر ڈالنا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل خالد ربانی کا کہنا تھا کیا افغانستان میں طالبان کا خاتمہ ہوگیا ہے؟ وہاں لاکھوں طالبان ہیں۔ پاکستانی سرزمین پر افغان عسکریت پسندوں کو برداشت کرنے یا ان کی حمایت کرنے سے افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے خلاف کارروائیوں کو روکنے میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
جنرل ربانی نے کہا امریکا اور ناٹو فوج افغانستان میں عسکریت پسندوں سے امن معاہدے کرنے کے لیے تعاون کر رہی ہیں۔ اگر سرحد کے اس پار بھی یہی حقیقت ہے تو پھر ہمارے لیے ایسا کرنا کیوں ممنوع ہے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور اس میں سویلین کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے درجنوں جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف جدوجہد پر شک کیا جاتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے اور کیوں پاکستان پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرایا جاتا ہے؟۔
جنرل خالد ربانی نے شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ امن معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ کسی قسم کی مشکلات کھڑی کرتا نظر نہیں آتا۔انہوں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی ہوگی کیونکہ یہ واحد علاقہ ہے جسے اب تک کلیئر نہیں کیا گیا اور ایسا جلد ہوگا۔
جنرل خالد کا کہنا تھا کہ بیشتر اوقات سرحد پار سے شدت پسند پاکستانی علاقے میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ امریکی اور اتحادی فوج کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کی سرگرمیوں کو روکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ کے بعد بڑی تعداد میں فوج قبائلی علاقوں میں تعینات کی تاکہ شدت پسندوں سے نمٹاجاسکے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بار شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کیے گئے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…