’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق سنی سٹیوڈنٹس اپنے علمائے کرام اور دانشوروں سے ملاقات اور قریب سے گفتگو کیلیے دارالعلوم زاہدان پہنچ چکے ہیں۔ ان کی محفل کا باقاعدہ آغاز جمعرات 26 اپریل 2012ء کی صبح میں ہوا۔
مذکورہ میٹنگ کا عنوان ’’اسلامی بیداری و انصاف طلبی کا طلوع، آمریت و خودپرستی کا زوال‘‘ رکھا گیا تھا جو شب جمعہ تک جاری رہی۔ اختتامی پروگرام میں حضرت شیخ السلام مولانا عبدالحمید نے حاضرین سے خطاب کیا۔
یاد رہے ہر تعلیمی سال کے آخر میں ایرانی یونیورسٹیز کے سنی طلباء، دانشور و مفکرین حضرات اور علمائے کرام دارالعلوم زاہدان میں ملاقات و گفتگو کیلیے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ الحمدللہ اب تک اس میٹنگ کو طلباء و اساتذہ کی جانب سے بہت پذیرائی ملی ہے اور اکیڈمیک شخصیات انتہائی گرمجوشی سے دارالعلوم زاہدان آ پہنچتی ہیں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار