ممتاز سنی عالم دین شیخ امینی پر الزام لگایا گیاہے کہ انہوں نے دوسال قبل دارالعلوم زاہدان کی تقریب ختم بخاری و دستاربندی میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر سنی برادری اور لسانی اقلیتوں سے امتیازی سلوک کا الزام عائدکیا ہے۔
ایک سنی ویب پورٹل ’اسلام کرد‘ کی رپورٹ کے مطابق حکومتی عدالت نے سرگرم سنی عالم دین شیخ حسن امینی دامت برکاتہم کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہاہے کہ حکومت پر امتیازی سلوک کی ’تہمت‘ لگانے کے علاوہ آپ ’شورائے منصوبہ بندی برائے دینی مدارس‘ کی مخالفت کررہے ہیں، تہران میں سنی مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے سے روکا جاتاہے، اس پر احتجاج اور سنی علماء و دانشوروں کی بلاوجہ گرفتاری وعدالت طلبی پر صدائے احتجاج بلند کرنا بھی ان پر عائد الزامات کی فہرست میں شامل ہیں۔
عدالت نے شیخ امینی کو حکم دیاہے کہ اپنے دعووں کا ثبوت عدالت کو اگلی پیشی میں فراہم کرے۔ اس سے قبل بھی انہیں کئی مرتبہ عدالت طلب کیا جاچکاہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…