’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ممتاز سنی عالم دین مولانا حافظ محمدعلی شہ بخش کو تین ہفتے قبل تئیس نومبر2011ء میں مشہد کی خصوصی عدالت برائے علما میں بلایاگیا تھا جہاں سے آپ کو جیل بھیج دیا گیا۔ عدالتی حکام کے مطالبے پر چارسو ملین تومان (تقریبا350ہزار ڈالر) کی ضمانت مہیا کی گئی جس کے بعد انہیں چودہ دسمبر بروز بدھ رہا کیا گیا۔
اس دوران مولانا حافظ محمدعلی کو متعلقہ سیکشن میں قید کرنے کی بجائے آپ کو جیل کے قرنطینہ میں ایک تنگ جگہے پر رکھا گیا جہاں چارسو سے زائد افراد بھی ان کیساتھ قید تھے۔
یاد رہے مولانا حافظ محمد علی اس سے قبل بھی تین مرتبے مذکورہ عدالت کے حکم پر جیل جاچکے ہیں اور چودہ مہینے سے زائد کا عرصہ جیل میں گزارچکے ہیں۔
ان کے علاوہ، اب بھی دارالعلوم زاہدان کے دو اساتذہ زاہدان اور یزد کی جیلوں میں قید ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…