ؔ ’’سنی آن لائن‘‘ کے ذرائع کے مطابق حافظ محمداسماعیل کی یزد جیل منتقلی اچانک واقع ہوئی، انہیں گزشتہ سال یکم نومبر کو انٹیلیجنس حکام نے زاہدان میں گرفتارکیاتھا جو کئی مہینوں تک ٹرائل کے بغیر انٹیلیجنس حکام کی قید میں رہیں۔
بالاخر زاہدان کی ایک مقامی عدالت نے حافظ محمداسماعیل کو دس برس قید کی سزا سنائی جن سے چار برس معطل تھے۔ ان پر سعودی حکومت سے تعلقات سمیت دیگر بے بنیاد الزامات تھے۔
یاد رہے عدالتی فیصلے میں ان کی جلاوطنی کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا، اس کے باوجود انٹیلیجنس حکام نے انہیں اچانک زاہدان جیل سے یزد منتقل کیا ہے جو قانون کے خلاف اقدام ہے۔ یزد شہر زاہدان سے 890 کلومیٹر دور ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…