ؔ ’’سنی آن لائن‘‘ کے ذرائع کے مطابق حافظ محمداسماعیل کی یزد جیل منتقلی اچانک واقع ہوئی، انہیں گزشتہ سال یکم نومبر کو انٹیلیجنس حکام نے زاہدان میں گرفتارکیاتھا جو کئی مہینوں تک ٹرائل کے بغیر انٹیلیجنس حکام کی قید میں رہیں۔
بالاخر زاہدان کی ایک مقامی عدالت نے حافظ محمداسماعیل کو دس برس قید کی سزا سنائی جن سے چار برس معطل تھے۔ ان پر سعودی حکومت سے تعلقات سمیت دیگر بے بنیاد الزامات تھے۔
یاد رہے عدالتی فیصلے میں ان کی جلاوطنی کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا، اس کے باوجود انٹیلیجنس حکام نے انہیں اچانک زاہدان جیل سے یزد منتقل کیا ہے جو قانون کے خلاف اقدام ہے۔ یزد شہر زاہدان سے 890 کلومیٹر دور ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…