Categories: مشرق وسطی

فلسطین کے لیے مکمل رکنیت کی درخواست

فلسطنی صدر محمود عباس نے ایک خطاب میں تصدیق کر دی ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اقوامِ متحدہ سے درخواست کریں گے فلسطین کو ادارے کی مکمل رکنیت دی جائے۔
رملہ میں ایک تقریر میں انھوں نے کہا کہ انیس سو سڑسٹھ کی حدود کے اندر فلسطینی ریاست کے لیے سکیورٹی کونسل میں درخواست دیں گے۔اس ریاست کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہوگا۔
امریکہ فلسطینیوں کے اس اقدام کے خلاف ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ میں ایسے کسی بھی اقدام کو ویٹو کر دے گا۔
فلسطین نے جس ریاست کے نقوش کو اقوامِ متحدہ میں لے جانے کا فیصلہ ہے اس میں غربِ اردن، غزہ اور مشرقی یروشلم شامل ہیں۔
اسرائیل نے بھی فلسطینی ریاست کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔
ادھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی اس فضا میں جمعہ کو غربِ اردن میں اسرائیلی فوج اور سینکڑوں فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
غربِ اردن میں بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ میں محمود عباس کی حکمتِ عملی کیا ہوگی اس بارے میں میں سب لوگ صرف اندازے ہی لگا رہے ہیں۔
ادھر امریکہ نے آئندہ ہفتے فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت کی درخواست دینے سے روکنے کے لیے کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے امریکی شہر سان فرانسیسکو میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ سرحد اور سکیورٹی جیسے سنجیدہ مسائل کا حل اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت کی منظوری نہیں ہے بلکہ فلسطین کو بات چیت کا راستہ اپنانا چاہیے اور یہی فریقین کی بھی مشترکہ رائے ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں غربِ اردن پر حکمران فلسطینی اتھارٹی نے باقاعدہ طور پر اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس بات کا اظہار کیا تھا کہ اسرائیلی زیر انتظام علاقے میں اسرائیل کے ساتھ بات چیت سے اب تک کوئی مثبت نتیجہ نہیں برآمد ہوا اور اب ضروری ہے کہ اقوام متحدہ فلسطین کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا درجہ دے۔
بی بی سی کے نامہ نگار برائے اقوام متحدہ کے بقول واشنگٹن کی پوری کوشش ہے کہ اسے فلسطین کی اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت کی درخواست کو ویٹو یا مخالفت نہ کرنا پڑے کیونکہ ایسا کرنے سے امریکہ کے مسلمان دنیا سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
اگرچہ امریکہ بات چیت کے ذریعے دو علیحدہ ریاستوں کے قیام کے حق میں ہے لیکن پچھلے سال اسرائیل کی جانب سے مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں میں توسیع جاری رکھنے کے فیصلے کی وجہ سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے تھے۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago