مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار الاقصیٰ یونیورسٹی کے سترویں کانووکیشن سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا اسرائیل اس وقت اندرونی طور پر بد ترین انتشار اور پھوٹ کا شکار ہے۔ صہیونی ریاست کے حامی اور اس کے پشتیبان اسرائیل کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن تاریخ نے اب فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ اسرائیل جلد دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں چلنے والی انقلاب کی تحریکوں سے فلسطینی قوم، القدس اور قبلہ اول کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔ عرب ممالک کے انقلابات نے روشنی کی ایک نئی کرن ہمارے اندر پھونک دی ہے۔ فلسطینیوں کو اپنی منزل قریب دکھائی دینے لگی ہے اور ان کے حوصلے پہلے سے کہیں زیاہ بلند ہیں۔ آنے والے وقت میں فلسطینیوں کے لیے خطے کے ممالک سے امید افزا ہوائیں آئیں گی۔
اسماعیل ھنیہ نے یہودی آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں داخلے اور فوج اور پولیس کی نگرانی میں قبلہ اول کی بے حرمتی پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہودیوں کو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اسرائیل اب زوال کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور مسجد اقصیٰ پر حملے کر کے خود کو اطمینان دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار