Categories: پاکستان

کراچی:12گھنٹے میں 24ہلاکتیں، نجی کمپنی کے ملازمین سمیت15افراداغوا

کراچی(جنگ نیوز) کراچی میں راکٹ لانچرز، دستی بم حملوں اور شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ گذشتہ روز سابق رکن قومی اسمبلی سمیت 16 افراد قتل کئے گئے۔آج پرتشدد واقعات میں مزید 24 افراد دہشت گردی کا شکار ہوگئے۔اس طرح 24گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد 40ہوگئی۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لیاری آگرہ تاج کالونی سے ایک نجی ادارے کی وین 13افراد سمیت اغوا کرلی گئی جبکہ لیاری میں ایک بس میں سفر کرنے والے دو افراد کو اغواء کرلیا گیا ہے۔
کراچی میں بدامنی اور دہشت گردی کے دوران گذشتہ روز ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں لواحقین کودینے کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ آج صبح سورج طلوع ہونے سے قبل ہی مختلف علاقوں سے لاشیں ملنے اور فائرنگ و پرتشدد واقعات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بلدیہ ٹاوٴن، لیاری ،میں لی مارکیٹ اور ماڑی پور ٹرک اڈے، شیر شاہ میں پنکھا ہوٹل، گارڈن میں چڑیا گھر کے قریب، منگھوپیراور دیگر علاقوں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ تمام افراد کو مختلف مقامات سے اغوا کرکے تشدد کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بوریوں میں بند ملنے والی بیشتر لاشوں کی جیبوں سے پرچیاں بھی برآمد ہوئیں جن پر ”امن چاہئے یا جنگ یا مزید بھیجیں “کے سخت الفاظ درج ہیں۔
شیر شاہ میں پنکھا ہوٹل کے قریب ایک موبائل فون کمپنی کی گاڑی سے ملنے والی چار لاشوں میں سے دو کمپنی کے ملازمین جاوید اور عمران کی تھیں۔ بلدیہ ٹاوٴن سے ملنے والی لاشوں میں سے ایک کی شناخت لیاری فائر بریگیڈ اسٹیشن کے اسٹیشن آفیسر لیاقت ظفر فاروقی کے نام سے ہوئی۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق لیاقت فاروقی کو میراں ناکہ پر واقع فائر اسٹیشن سے فائرمین عرفان کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا۔ عرفان کو گولیاں مار کر زخمی کردیا گیا۔
ایک لاش نیو ٹاوٴن تھانے کے ہیڈ کانسٹیبل اعجاز کی تھی جو کل افطاری لینے کے لئے گھر نکلا مگر واپس نہیں آیا۔ بلدیہ ٹاوٴن میں ہی فائرنگ کے ایک واقعہ میں ایک شخص ہلاک جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔ اس علاقے میں وقفے وقفے سے شدید فائرنگ کے دوران بلدیہ ٹاوٴن تھانے کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ بلدیہ ٹاون نمبر 3 میں میرعالم روڈ پر ایک راکٹ بھی فائر کیا گیا۔
اولڈ سٹی ایریا کے علاقے رنچھوڑ لائن میں ایک پارک کے قریب بھی دستی بم پھینکا گیا۔ کھارادر سمیت شہر کے مختلف مقامات پر گذشتہ روز فائرنگ، راکٹ اور دستی بم کے حملوں میں پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے واجہ کریم داد سمیت 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان واقعات کے بعد سے اولڈ سٹی ایریاز، لیاری، رنچھوڑ لائن، رسالہ، نیپئر اور بلدیہ ٹاوٴن میں سخت کشیدگی ہے۔ان میں سے بعض علاقوں میں رینجرز اور پولیس اہلکارموجود تو ہیں تاہم دہشت گردوں کے خلاف کوئی موثر کارروائی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago