لندن میں فسادات جاری، دیگر شہر بھی متاثر

لندن(بى بى سى) برطانوی دارالحکومت لندن میں سنیچر سے شروع ہونے والے فسادات کا سلسلہ جاری ہے اور اب شہر کے متعدد علاقے اس کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔
سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق فسادات کے دوران اب تک تین سو چونتیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان میں سے انہتر افراد پر لوٹ مار کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پیر اور منگل کی درمیانی شب لندن کے جنوبی علاقوں پیکہم اور کروئیڈن، مغربی علاقے ایلنگ اور مشرقی علاقے ہیکنی میں لوٹ مار اور فسادات کے واقعات پیش آئے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اٹلی میں موسم گرما کی چھٹیاں مختصر کر کے واپس وطن پہنچ رہے ہیں اور ہنگامی کمیٹی کوبرا کے اجلاس کی سربراہی کریں گے۔ ایک حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
وزیر داخلہ ٹریسا مے نے کہا کہ ٹوٹنہم سے شروع ہونے فسادات ناقابل قبول ہیں اور ان میں حصہ لینے والوں کو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔
واضح رہے کہ لندن میں سنیچر کو شمالی لندن کے علاقے ٹوٹنہم میں ایک شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد فسادات کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب مختلف علاقوں تک پھیل چکا ہے۔
لندن شہر میں صورتحال سے نمٹنے کے لیے سترہ سو پولیس افسران کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا۔ لندن پولیس کو برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے نو پولیس فورسز کے مدد حاصل ہے۔
پیر کو لندن کے مشرقی علاقے ہیکنی میں فسادات کا سلسلہ شروع ہوا جو شام تک کروئیڈن، پیکہم، لوئیشم اور برکسٹن تک پھیل گیا۔ پیر کی رات اینفیلڈ، والتھم سٹوو، بارکنگ اور ایلنگ براڈوے میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آئے اور فسادات کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔
سر اور چہروں کو ڈھانپےہوئے نوجوانوں نے جہاں شہر کے مختلف علاقوں میں زبردست لوٹ مار کی اور جائیداد کو نقصان پہنچایا وہیں پولیس اہلکاروں پر حملہ بھی کیا۔
پیر کی رات کروئیڈن کے علاقے میں ایک بڑی صوفہ فیکٹری سمیت کئی عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا جبکہ کلیپہم میں لیونڈر ہل اور سٹریٹفرڈ ہائی سٹریٹ کے علاقے میں متعدد دکانوں کو لوٹا گیا۔
اینفیلڈ کے علاقے سولار وے میں سونی کمپنی کا ایک گودام، وولچ نیو روڈ میں ایک شاپنگ سنٹر، ایسٹ ہیم کے علاقے پلیشٹ گروو میں لکڑی کی ٹال کو بھی آگ لگا دی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق بیتھنل گرین کے علاقے میں سو سے زائد افراد نے ایک ٹیسکو سٹور لوٹ کیا اور اس دوران دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
لوئیشم میں ایک کار جبکہ پیکہم میں ایک بس اور دکان کو جلایا گیا ہے۔ کلیپہم جنکشن کے علاقے میں لوٹ مار کرنے والوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے نمائشی ملبوسات کی دکان سے نقاب چرائے ہیں۔
ایلنگ میں بھی کئی دکانوں اور ریستورانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور ایلنگ براڈ وے ٹیوب سٹیشن کے سامنے واقع ہیون گرین پارک سے بھی شعلے اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔
لندن پولیس کے نائب کمشنر سٹیفن کواہنگا کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی گئی ہے اور اتوار کے برعکس پیر کو ان کی تعداد ایک تہائی زیادہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ’ جب جرائم پیشہ افراد کی ایک بڑی تعداد اس طرح کے فسادات کرنے پر اتر آتی ہے تو اس صورتحال میں صرف یہ کیا جا سکتا ہے کہ فوری طور پر بڑی تعداد میں پولیس افسران کو وہاں بھیجا جائے اور مقامی کاروبار اور لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago