خلیج تعاون کونسل کے رکن مذکورہ تینوں ممالک نے دمشق سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ عرب لیگ کے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف سخت مذمتی بیان کے بعد کیا ہے۔شامی سکیورٹی فورسز کی مارچ کے وسط سے جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف جاری کارروائیوں میں اب تک دو ہزار چھپن افراد مارے جا چکے ہیں اور صدر بشار الاسد ہر گزرتے دن کے ساتھ عالمی برادری اور خاص طور پر عرب دنیا میں تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔
بحرین کے شیخ خالد الخلیفہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ”ہم نے شام میں تعینات اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلانے کا فیصلہ ہے اور ہم اس بات پر زوردینا چاہیں گے کہ عاقلانہ بنیاد پر اقدامات کیے جانے چاہئیں”۔
سعودی عرب اور کویت نے بھی سوموار کو دمشق میں متعین اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ کویت کے وزیرخارجہ شیخ محمدالصباح نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”کوئی بھی شام میں خونریزی کو قبول نہیں کر سکتا۔ فوجی آپشن کو بروئے کار لانے کا عمل فوری طور پر روکا جانا چاہیے”۔
انھوں نے کہا کہ” بہت جلد خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا جائے گا جس میں شام کی صورت حال کے حوالے سے مشترکہ موقف اختیار کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا”۔اس دوران یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ جی سی سی کے وزرائے خارجہ کا چودہ اگست کو اجلاس ہوگا جس میں شام کے بارے میں کوئی مشترکہ فیصلہ کیا جائے گا۔
قبل ازیں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ایک بیان میں دمشق سے سعودی سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا اور انھوں نے یہ فیصلہ گذشتہ روز دیرالزور میں شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں پچاس افراد کی ہلاکت کے بعد کیا تھا۔
شاہ عبداللہ نے دمشق حکومت پر زور دیا کہ”قتل کرنے والی مشین کو روکا جائے اور خونریزی بند کی جائے قبل اس کے کہ اس میں بہت زیادہ تاخیر ہو جائے”۔انھوں نے کہا کہ ”سعودی مملکت شام کی صورت حال کو قبول نہیں کر سکتی کیونکہ وہاں ہونے والی پیش رفت کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا”۔ انھوں نے شام میں جامع اور فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
شامی صدر اپنے خلاف عالمی سطح پر شدید تنقید کے باوجود جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کوجائز قراردے رہے ہیں اور وہ مظاہرین کو قانون شکن قرار دے کر کہہ رہے ہیں کہ سڑکوں کو بند کرنے والوں ،شہریوں کو دہشت زدہ اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
شامی صدرنے آج اپنے وزیردفاع علی حبیب کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔شام کے سرکاری ٹیلی وژن کی اطلاع کے مطابق صدراسد نے اپنے چیف آف اسٹاف جنرل داٶد رجاہ کو ملک کا نیا وزیردفاع مقرر کیا ہے۔
لیکن شام میں وزیر دفاع کے عہدے کو علامتی ہی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ تجزیہ کاروں کے بہ قول اصل اختیارات تو صدر بشار الاسد اور ان کے بھائی مہر کے پاس ہیں جو مظاہرین کے خلاف کارروائی کے لیے فوج کے ایلیٹ دستوں کی کمان کر رہے ہیں جبکہ ڈپٹی چیف آف اسٹاف آصف شوکت صدر بشار الاسد کے برادر نسبتی ہیں جن کے بارے میں سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ فوج پرحکومت کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے وہ بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…