جنرل عبدالرزاق نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے اپنی پگڑی میں چھپائے گئے دھماکا خیز مواد کو اس وقت دھماکے سے اڑایا جب میئر حیدری اس کے سامنے آئے۔ مقتول حملے کے وقت بلدیہ کی عمارت میں افغان شہریوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے تھے۔
اجلاس میں شریک افراد نے بتایا کہ غلام حیدر افغان شہریوں کے درمیان زمین کے ایک تنازعے کے بارے میں طرفین کا موقف سن رہے تھے کہ اس دوران خودکش بمبار نے دھماکا کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق زمین کے تنازعے پر اپنی رائے دیتے ہوئے مسٹر حیدری کہا کہ جن لوگوں نے غیر قانونی طور پر اراضی پر قبضہ کیا ہے ان کے گھر مسمار کر دئیے جائیں۔
اس ماہ افغانستان میں پہلے ہی دو اہم سربراہ، جان محمد خان اور احمد ولی کرزئی، کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق میئر حمیدی قندھار میں احمد ولی کرزئی کی جگہ گورنر کے امیدوار تصور کیے جاتے تھے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار