مولانا احمد نے اپنے بیان کا آغاز سورت بنی اسرائیل کی بعض آیات کی تلاوت سے کرتے ہوئے گویا ہوئے: ان جیسی آیات قرآنیہ میں ایسے عظیم و تابندہ احکام بیان ہوئے ہیں کہ اگر ہم ان پر عمل کریں تو ہماری دنیا وآخرت میں کامیابی یقینی ہے۔ پرسکون زندگی اس وقت تک حاصل نہیں ہوگی جب تک قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل نہ کیاجائے۔
انہوں نے مزید کہا انسانی معاشرہ چاہے قدیم وغیرمہذب معاشرہ ہو یا ہمارے دور کے ماڈرن و بظاہر مہذب معاشرہ، جب یہ اللہ تعالی کی تعلیمات اور ارشادات نبوی علی صاحبہا السلام سے دور ہوجائے تو امن وسکون اور راحت لوگوں کی زندگیوں سے چھین جائے گی۔ اللہ تعالی قرآن پاک کو انسانیت کی راحت کے لیے نازل فرمایا، لیکن یہ پرسکون زندگی چند شرائط کو جامہ عمل پہنائے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔
دارالعلوم زاہدان کے استاذالحدیث نے کہا ان شرائط میں سے ایک قرآن پاک کی تلاوت، معارف وعلوم کا سیکھنا اوران پرعمل کرنے کی کوشش ہے۔ اسی عظیم آسمانی کتاب کی برکت سے بدو اور جاہل عربوں کو ’صحابہ‘ کا عظیم مقام عطا حاصل ہوا۔ قرآن پر عمل کرکے صحابہ کرام نے دنیا کی قیادت اپنے ہاتھ میں لیا۔
قرآن مجید کی برکت سے پرامن زندگی کے حصول کی دوسری شرط کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جامع مسجد مکی کے خطیب نے کہا قرآنی تعلیمات کی تبلیغ اور دوسرے انسانوں کو قرآن پاک کے معارف سے باخبر کرنا ایک اور شرط ہے۔ بلاشبہ اگر صحابہ کرام دعوت واشاعت قرآن کا کام سرانجام نہ دیتے اور اپنے معاشرے میں اسے نافذ نہ کرتے تو آج ہم مسلمان نہ ہوتے۔
مولانا احمد نے مزید کہا اللہ تعالی نے سورت الاسرا کی ابتدائی آیات میں بعض تعالیم واحکام کو بیان فرمایاہے؛ مثلا رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھنا اور اسراف سے اجتناب کرنا۔ ’’ولاتبذر تبذیرا‘‘ فضول خرچی و اسراف سے بچنے کا حکم ہے۔ ’تبذیر‘ کامطلب ہے ایسی جگہوں پر پیسہ خرچ کرنا جو شریعت کی منافی ہو جیسا کہ منشیات، رقص وڈھول کی محفلوں اور لہو ولعب پر پیسہ لگانا، ایسے لوگ شیطان کے بھائی قرار دیے جاچکے ہیں۔ جبکہ ’اسراف‘ کا مطلب یوں بیان ہوا ہے کہ ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا، مثلا ولیمے کے کھانے میں اسراف جسے بعد میں کچرا دانوں کی نذر کیاجاتاہے۔ اگر کوئی جنت کی امید رکھتا ہے تو اسے اسراف و تبذیر دونوں سے دور بھاگنا چاہیے۔
نائب صدر دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا اسراف وتبذیر دونوں اللہ تعالی کی ناراضگی کے باعث ہیں۔ اللہ کی ناراضگی و غضب مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ قحط و خشک سالی اور بدامنی۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جس طرح ہم سے سوال ہوگا مال وپیسہ کس طرح اور کہاں سے حاصل کیا گیا؟ اسی طرح یہ بھی پوچھا جائے گا کہ ہم نے اپنا مال کہاں پر لگایا اور کیسے خرچ کیا۔ اسی لیے اسراف و تبذیر سے ازحد اجتناب ضروری ہے خاص طور پر شادی پارٹیوں میں اسراف و تبذیر سے پرہیز کرنا چاہیے۔اپنی اولاد کو نصیحت کریں تاکہ ایسے امور سے دوری کریں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…