جان محمد خان کا قتل صدر حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی کے قتل کے چند روز بعد ہوا ہے۔جان محمد خان احمد ولی کرزئی کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔
کابل پولیس کا کہنا ہے کہ جان محمد خان کے علاوہ ایک اور افغان قانون ساز ہاشم اتنوال بھی اس حملے میں مارے گئے ہیں۔
صدر کرزئی کے مشیر کا قتل اسی روز ہوا جب نیٹو افواج نے افغانستان کے بعض علاقوں کی ذمہ داری افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنی شروع کی ہیں۔ نیٹو افواج نے اتوار کے روز صوبے بامیان کو مقامی سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا۔
کابل پولیس کے سربراہ نے جان محمدخان کی ہلاکت کے کچھ دیر بعد کہا تھا کہ کابل کے علاقے کرتی چار میں سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا کہ دو حملہ آوروں نے مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے جان محمد خان کی رہائش پر حملہ کیا۔
کابل میں بی بی سی کے صحافی بلال سروری نے بتایا ہے کہ جان محمد خان صدر حامد کرزئی کے قریبی ساتھی تھےلیکن وہ ایک متنازعہ شخصیت تھے اور ان پر مقامی ملیشیا کی مدد کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد ہوتے رہتے تھے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…