اخوان المسلمون کی اپیل
قبل ازیں شام کی اسلامی جماعت اخوان المسلمون نے شہریوں پر زوردیا کہ وہ جمعہ کو حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل کراحتجاج کریں۔اخوان المسلمون نے اپنی اپیل میں شامی سکیورٹی فورسز کے محاصرے کا شکارجنوبی شہر درعا کے مکینوں کی فوری مدد پر زوردیا جہاں فوج کی ٹینکوں کے ساتھ کارروائی کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد کم سے کم ایک سو ہوگئی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اخوان المسلمون نے تین عشرے کے بعد شامی حکومت کے خلاف مظاہروں کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ 1982ء میں بشارالاسد کے والد حافظ الاسد نے اخوان السملمون کے کارکنان کے خلاف سخت کریک ڈاٶن کیا تھا اور بائیں بازو کی تحریکوں کے ساتھ اخوان کو بھی بہت برے طریقے سے کچل دیا گیا تھا۔ تب حمہ شہر میں اخوان السلمون کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں دس سے تیس ہزار کے درمیان افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
شام کی اخوان المسلمون کی جلاوطن قیادت نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو ایک اعلامیہ بھیجا ہے جس میں شامی شہریوں سے کہا گیا کہ ” وہ حکومت کو اپنے ساتھیوں کا محاصرہ نہ کرنے دیں۔ایک ہی آواز میں آزادی اور وقار کے لیے نعرے بازی کریں۔آمر کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کا محاصرہ کرے”۔
اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ حکومت اسلام پسندوں پر یہ الزام عاید کررہی ہے کہ حالیہ گڑ بڑ میں ان کا ہاتھ ہے حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں بلکہ حکومت کے اس الزام کا مقصد خانہ جنگی کو ہوا دینا ہے تاکہ سیاسی آزادیوں اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں چلنے والی تحریک کو نقصان پہنچایا جاسکے۔
شام کی سکیورٹی فورسز کو تین روز قبل ہی ٹینکوں کے ساتھ دارالحکومت دمشق میں تعینات کیا گیا تھا جبکہ انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ کے دوران جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں پانچ سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔شام آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ اس نے ساڑھے چارسوسے زیادہ شہریوں کے نام جمع کر لیے ہیں،جنہیں حکومت کے خلاف حالیہ مظاہروں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں ہلاک کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کونسل کا اجلاس
ادھر جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں مظاہرین کے خلاف بشارالاسد کی حکومت کے کریک ڈاٶن کی تحقیقات کے لیے ایک مشن شام بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ برسلز میں یورپی یونین کے سفیروں کے اجلاس میں شام کے خلاف پابندیاں عاید کرنے پرغور کیا گیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یورپی یونین کی مجوزہ پابندیوں کے تحت مظاہرین پر تشدد کے ذمے دار شام کے اعلیٰ عہدے داروں کے اثاثے منجمد کیے جاسکتے ہیں اور ان پر سفری قدغنیں لگائی جاسکتی ہیں۔امریکا پہلے ہی اسد خاندان پر اس طرح کی پابندیاں عاید کرچکا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شام کی صورت حال پر غورکے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفترکو شام میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک مشن بھیجنے کا کہا جائے گا جو تشدد کے واقعات کی وجوہات کا تعین کرے گا اور اس بات کا بھی تعین کرے گا کہ آیا یہ واقعات انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔
انسانی حقوق کونسل کا اجلاس امریکا اور دس یورپی ممالک کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔ان ممالک کے علاوہ جاپان ، میکسیکو، جنوبی کوریا، سینی گال اور زیمبیا نے بھی اجلاس بلانے کے لیے درخواست پر دستخط کیے تھے۔کونسل کے رکن عرب ممالک میں سے کسی نے بھی اس درخواست پر دستخط نہیں کیے تھے ۔واضح رہے کہ کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کے لیے سینتالیس رکن ممالک میں سے ایک تہائی ارکان کی جانب سے درخواست دی جانی ضروری ہے۔
امریکا نے کونسل کے اجلاس میں شام میں تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لیے قرارداد پیش کی جس کے حق میں چھبیس ممالک نے ووٹ دیا،نو ممالک نے اس کی مخالفت کی۔سات غیر جانبدار رہے جبکہ پانچ نے رائے شماری کے وقت اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ قرارداد میں شام میں عالمی انسانی حقوق سے متعلق قانون کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی مشن بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور تشدد کے واقعات کی مذمت کی گئی ہے۔
شام کے روایتی اتحادی ممالک روس ،چین ،کیوبا ،اسلامی ممالک ملائشیا اور پاکستان اور بعض عرب ممالک بھی انسانی حقوق کونسل کے ارکان ہیں۔شام بھی 2012ء سے 2014ء کے درمیان کونسل کی رکنیت کا امیدوار ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی مئی میں نئے رکن ممالک کا انتخاب کرے گی لیکن اگر شام کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات ہوتی ہے تواس کی رکنیت خطرے میں پڑجائے گی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…