قاہرہ(العربیہ)مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے سابق صدر حسُنی مبارک کو شرم الشیخ کے ایک اسپتال سے طرہ فارم ہاوس جیل کے فوجی اسپتال منتقل کرنے کے احکاما ت دیے ہیں۔ مصری پراسیکیوٹر جنرل کے ترجمان کے مطابق اٹارنی جنرل کی جانب سے وزارت داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سابق صدر کے لیے طرہ جیل کے “لیمن” اسپتال میں تمام تر ضروری طبی لوازمات مکمل کرنے کے بعد انہیں شرم الشیخ کے پرائیویٹ استپال سے وہاں منتقل کر دیں۔
اُدھر دوسری جانب حسنی مبارک کے سینئر سرکاری معالج ڈاکٹر السباعی نے پراسیکیوٹر جنرل کو سابق صدر کی صحت کے بارے میں اتوار کو ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق صدر اسپتال میں اضطراری حالت میں ہیں اور انہیں کسی دوسرے اسپتال میں منتقل کرنے کے بعد بھی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا جائے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق صدر کا علاج جاری ہے تاہم نقاہت کی وجہ سے ان کے دل کی دھڑکن بہت آہستہ چل رہی جو کسی بھی وقت ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
درایں اثناء حسنی مبارک کے سرکاری معالج ڈاکٹر السباعی احمد السباعی کو نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد السباعی کا کہنا تھا کہ انہیں موبائل پر دھمکی امیز ایس ایم ایس موصول ہوئے ہیں تاہم وہ ان سے خوف زدہ نہیں۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں کہا کہ قتل کی دھمکیوں کی وجہ سے وہ اپنے لیے سیکیورٹی کا مطالبہ نہیں کریں گے کیونکہ اس سے ان کے کاموں کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر السباعی نے کہا کہ اصل محافظ صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ خود ہماری حفاظت کرے گا۔ سیکیورٹی کی وجہ سے اپنے اہل خانہ پر پابندیاں نہیں لگانا چاہتا۔
ڈاکٹر السباعی نے ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ کون ان کی جان کے درپے ہے کیونکہ ان کے کئی دوستوں کو بھی میرے حوالے سے دھمکی آمیز ایس ایم ایس بھیجے گئے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کہ دھمکیوں کا سابق صدر حسنی مبارک کے علاج کے لیے ان کی تقرری سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عدالتی تحقیقات کے آغاز کے بعد شرم الشیخ میں ان کی حالت سخت خراب ہو گئی تھی۔ جس پر انہیں جیل منتقل کرنے سے قبل ان کے علاج کے لیے ڈاکٹر السباعی کو مصری پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے متعین کیا گیا تھا تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ سابق صدر کب جیل جانے کے قابل ہوتے ہیں۔