کابل /غزنی (اے ایف پی/جنگ نیوز) افغانستان میں فوجی وردی میں ملبوس شخص نے وزارت دفاع کی عمارت پر حملہ کرکے2فوجیوں کو ہلاک کردیا جبکہ فائرنگ سے 7دیگر شدیدزخمی ہوگئے ۔جوابی کارروائی میں حملہ آوربھی ماراگیا ۔طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا مقصدافغانستان کے دورے پر آئے ہوئے فرانسیسی وزیردفاع جیرارڈلونگٹ کو ہدف بنانا تھا۔
فرانسیسی وزیردفاع کے دفترسے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ وزیردفاع جیرارڈلونگٹ افغانستان کے دورے پر ہیں لیکن حملے کے وقت وہ کابل میں موجود نہیں تھے۔
ادھرغزنی میں سڑک کنارے بم دھماکے میں6افغان پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ ان کی گاڑی تباہ ہوگئی۔
ادھر ایرانی سرحد کے قریب مغربی صوبے فراح میں نامعلوم مسلح افرادنے 11ایرانی انجینئرزاوران کے افغان مترجم کو اغواء کرلیا گیا۔علاوہ ازیں کابل کے شمال میں واقع صوبہ پروان کے مرکزچاریکار میں نیٹواورافغان فورسزکے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ سے3مظاہرین ہلاک جبکہ فائرنگ اورپتھراؤ سے25دیگرزخمی ہوگئے۔
ادھر نیٹونے اپنی تحقیقی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روزلغمان میں افغان فوجی اڈے پر خودکش حملہ کرنے والا شخص افغان فوج کا اہلکارتھا۔
مغربی ماہرین نے افغانستان میں اتحادی وافغان فورسز پر بڑھتے ہوئے حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان بہت خطرناک ہیں۔ انہوں نے دفاعی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور اب وہ میدان جنگ میں دوبدو لڑائی کے بجائے بم حملے کرکے مخالفین کو نفسیاتی طورپر شکست دینے کی کوشش کررہے ہیں۔