کشمیر:فیس بُک صارفین کے خلاف کارروائی

سرینگر(بی بی سی) بھارتی زیرانتظام کشمیر میں پولیس نے فیس بُک پر تبصرے کرنے والے لڑکوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع کیا ہے جبکہ پوری وادی میں کرفیو جاری ہے۔

سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق کشمیر پولیس نے سرینگر کے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان فیضان کو فیس بُک پر ’قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام‘ میں اس کے گھر سے گرفتار کر لیا ہے۔ بعد ازاں کئی دیگر نوجوانوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا تاہم انہیں ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فیضان نے فیس بک پر اشتعال انگیز مواد پوسٹ کرنے کے علاوہ بعض پولیس افسروں کے خلاف غلط الزامات کی تشہیر کی تھی۔ سرینگر کے ایس پی ہائرسیکنڈری سکول میں زیرتعلیم اس نوجوان کے خلاف انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 66A اور غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق قانون کی شِق نمبر13 کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ انٹرنیٹ پر سماجی رابطہ کاری کی عالمی شہرت یافتہ ویب سائٹ فیس بُک پر کشمیری نوجوانوں کی اشتعال انگیز مہم کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ اس سلسلے میں بدھ کو بھی پولیس نے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں زیرتعلیم اعجاز احمد بٹ کو بھی گرفتار کرلیا تھا، تاہم اسے دو دن کی قید کے بعد رہا کیا گیا۔
اعجاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک پولیس افسر نے مجھ سے طویل پوچھ گچھ کی۔ پولیس اہلکاروں نے میرے فیس بُک اکاونٹ کی باریک بینی سے جانچ کی اور ہر اُس پوسٹ پر سوالات اُٹھائے جسے میں نے پسند (LIKE) کیا تھا۔‘
اعجاز کا کہنا ہے کہ اسے علیحدگی پسند رہنما مسرت عالم کے ویڈیو کو پوسٹ کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے دو ماہ قبل جنوبی قصبہ اننت ناگ میں بھی پولیس نے فیس بُک کا استعمال کرنے والے کئی نوجوانوں کی پوچھ گچھ کی تھی، تاہم فیضان پہلا نوجوان ہے جس کے خلاف باقاعدہ کیس درج کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وادی میں چوالیس ہزار لوگ فیس بُک پر ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں، تاہم انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کہتے ہیں کہ یہ تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وادی میں رہنے والوں کے ساتھ ساتھ ایسے ہزاروں لوگ ہیں جو دُنیا کے مختلف ممالک میں ہیں اور فیس بُک کے ذریعہ کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ جُڑے رہنا چاہتے ہیں۔‘
فیس بُک پر مباحث یا تبصرہ نگاری کے لیےگرفتاریوں کی خبر عام ہوتے ہیں وادی کے انٹرنیٹ یوزرز میں خوف کی لہر پھیل گئی۔ بارہمولہ کے اشرف گنائی نے بتایا کہ نوجونوں کے والدین نے انٹرنیٹ کنیکنشن ہی کاٹ دیا ہے، اور وہ اپنے بچوں کو فیس بُک سے گریز کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔
دریں اثنا پچھلے دو ہفتوں سے وادی بھر میں کرفیو جاری ہے اور لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago