مسلمانوں کا تیسرا مقدس مقام
مسجد اقصیٰ مکہ معظمہ میں مسجد حرام اور کعبتہ اللہ اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے بعد مسلمانوں کا تیسرا مقدس مقام ہے۔یہود کے نزدیک بھی یہ مقدس مقام ہے۔یہیں ان کے بہ قول ان کا دوسرا معبد تھاجسے رومیوں نے 70 عیسوی میں تباہ کر دیا تھا۔
مسجد اقصیٰ القدس کے عرب آبادی والے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس پر1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اوربعد میں اس کوصہیونی ریاست میں ضم کرلیا تھا۔اب وہ اس شہر کو اپنا دارالحکومت قراردیتا ہے لیکن اقوام متحدہ اور امریکا سمیت عالمی برادری نے کبھی اسرائیل کے اس دعوے کو قبول نہیں کیا۔اب فلسطینی بھی اسے اپنی مجوزہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔
اقوام متحدہ اور مغربی قوتوں کا کہنا ہے کہ اس شہر کی حیثیت کا تعین اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔فریقین کے درمیان بیس ماہ کے وقفے کے بعد گذشتہ روز ہی براہ راست مذاکرات بحالی ہوئے جن میں دیگر متنازعہ امور کے علاوہ القدس کی حیثیت کا بھی تعین کیا جائےگا۔
اس وقت مشرقی بیت المقدس اور اس کے نواحی علاقوں میں ڈھائی لاکھ فلسطینی رہ رہے ہیں جبکہ دولاکھ اسرائیلیوں کو اس شہرکے مغربی حصے میں گذشتہ برسوں کے دوران لابسایا گیا ہے۔اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت اس سے پہلے کسی امن سمجھوتے کے تحت اس شہر کو تقسیم کرنے یا اسے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت بنانے کے مطالبات کو مسترد کرچکی ہے لیکن اب نے وزیردفاع ایہود باراک کا کہنا ہے کہ اسرائیل بعض رعایتوں کے بدلے میں مقبوضہ بیت المقدس کے بعض حصوں سے دستبردار ہونے کو تیار ہے۔
مسجداقصیٰ کے تقدس کی وجہ سے ماضی میں صہیونی حکام کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ سن 2000ء میں پیش آیا تھا جب سابق اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون المعروف بلڈوزرنے مسجد اقصیٰ میں اپنے ناپاک قدم رکھے تھے تو اس کے خلاف فلسطینیوں نے دوسری انتفاضہ تحریک شروع کردی تھی۔
اسرائیل فلسطینیوں سے مذاکرات کے ساتھ القدس کو”یہودیانے”کی پالیسی پربھی عمل پیرا ہے جس کا بنیادی مقصد مقبوضہ بیت المقدس سے زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو نکال باہرکرنا ہے تاکہ وہ اسے اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانے کا دعویٰ نہ کرسکیں.اسرائیل اس پالیسی کے تحت القدس سے فلسطینی آبادی جارحانہ اقدامات سے بے دخل کررہا ہے اوریہودیوں کی تعداد کوبڑھارہا ہےاوروہ اپنے اس اقدام سے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام