عمرعبداللہ: نوجوان نے جوتا پھینکا

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے شہر سرینگرمیں اتوار کی صبح بھارتی یوم آزادی کی تقریب پر جھنڈا لہرانے کے دوران وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی طرف ایک نوجوان نے جوتا پھینکا اور آزادی کا نعرہ لگایا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ نوجوان معطل کیا گیا پولیس اہلکار ہے جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔
جوتا عمرعبداللہ کے قریب گرا جس کے بعد سرینگر کے بخشی سٹیدیم میں کھلبلی مچ گئی۔
اہم شخصیات (وی آئی پی) کے لیے مخصوص گیلری میں موجود اس نوجوان کو وزیراعلیٰ کی حفاظت پر مامور سپیشل سکیورٹی گروپ کے اہلکاروں نے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔
سری نگر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جوتا پھینکے والا بانڈی پورہ کے اجس گاؤں کے رہائشی عبدالاحد جان ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالاحد پولیس اہلکار ہے جسے حال ہی مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے اس سال مئی میں گرفتار کیا گیا تاہم اسے ضمانت پر رہائی ملی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالاحد کو مجرمانہ حرکتوں کے لیے نوکری سے تین ماہ قبل معطل کیا گیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ کے لیے پولیس کی مخصوص سکیورٹی ونگ کے ایک افسر نے بتایا کہ اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ آیا مذکورہ پولیس افسر وی آئی پی گیلری میں کس طرح پہنچا۔
سٹیڈیم میں ہڑتال اور سکیورٹی پابندیوں کی وجہ سے بہت کم بھیڑ تھی۔
حکومت نے لداخ سانحہ کی وجہ سے پہلے تقریب میں طلبہ و طالبات کے رنگارنگ پروگرام منسوخ کردیے تھے۔ لیکن یہ تاریخی واقعہ حکومت کے تمام وزرا، اعلیٰ فوجی، پولیس و سِول افسران اور میڈیا نمائندوں کی بھاری تعداد کے سامنے پیش آیا۔
جوتا پھینکنے کے وااقعہ کے فوراً بعد وزیراعلیٰ سٹیج کی طرف گئے اور تقریر شروع کی۔ انہوں نے کہا ’مجھے اس واقعہ پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ شکر ہے اس نوجوان نے جوتا پھینکا پتھر نہیں پھینکا۔‘
سینئر صحافی علی محد صوفی کا کہنا ہے کہ اُنیس سو ساٹھ کی دہائی سے ہی مقامی نوجوان اس روز سٹیڈیم کے باہر پتھراؤ کرتے تھے جنہیں پولیس منتشر کرتی تھی۔ ’اُنیس سو تراسی میں نوجوانوں نے سٹیدیم کے باہر پیٹرول بم بھی پھینکا تھا۔‘
modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago