Categories: فقہ و احکام

عورتوں کا چہرے سے بال اکھاڑنے کا حکم

س: علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں: عورت کے لیے کن صورتوں میں اور کن شرائط کے ساتھ چہرے سے بال صاف کرنا جائز ہے؟

ج: فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتاہے اگر عورت کے چہرے پربال نکل آئے جس سے خاوند کو نفرت محسوس ہو اور عورت کے حسن میں کمی واقع ہو تو وہ بال صاف کرسکتی ہے چونکہ زیب و زینت عورت کے لیے مطلوب ہے۔ لیکن اگر چہرے سے بال صاف کرنے اور اکھاڑنے کا مقصدنامحرموں اور اجنبیوں کے لیے زینت اور اپنی زیبائش کی نمائش کرنی ہو یا چہرے کے بالوں کو اکھاڑنے سے عورت کی صحت کو نقصان لاحق ہو تو ان صورتوں میں بال صاف کرنا ناجائز ہے۔

مفتی خدانظر رحمہ اللہ۔ محمود الفتاویٰ4/206
دارالافتاء دارالعلوم زاہدان

modiryat urdu

Recent Posts

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام

1 day ago

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا

1 day ago

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے والوں کے لیے نجات کا آخری راستہ ہے

کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…

3 days ago

زاہدان کے علما و قرآنی کارکنان کا مشاورتی اجلاس منعقد

زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…

3 days ago

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

مولانا مفتی محمدقاسم بنی‌کمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام

1 week ago