Categories: مشرق وسطی

اسرائیل فلسطینی قیدیوں کے خلاف سفاکانہ کارروائیوں سے باز رہے: رشق

دمشق (مرکز اطلاعات فلسطین) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے  اسرائیلی حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ صہیونی عقوبت حانوں میں قید عرب اور فلسطینی قیدیوں پر اپنی  ظالمانہ کارروائیاں جاری رکھنے سے باز رہیں۔

انہوں نے متنبہ کیا قیدیوں کے ساتھ برتا جانے والا حالیہ ظالمانہ سلوک عالمی قوانین، جنیوا کنونشن سوم اور 1949 کے  جینیوا کنونشن چہارم کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے اسرائیلی کارروائیاں ’’جنگی جرائم‘‘ میں شامل ہوتی ہیں۔
فلسطین سے موصولہ اطلاعات کے مطابق رشق نے بروز پیر اپنے بیان میں کہا ہے کہ  صہیونی عقوبت خانوں میں موجود فلسطینی اور عرب اسیران کی تعداد 8200 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 800 غزہ کی پٹی، 500 قدس اور 1948 کے مقبوضہ علاقوں اور باقی مغربی کنارے سے گرفتار کیے گئے ہیں۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ ان قیدیوں میں 400 بچے اور 33 خواتین اور 15 ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔  
انہوں نے اسیران کے معاملے میں حماس کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسیران کو چھڑانے کے لیے قیادت کا خلوص قابل تحسین ہے انہوں نے جیلر اور قابض اسرائیلی جلاد کی ریشہ دوانیوں کے باوجود انپے حقوق سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا اس طرح اندرون جیل حماس کی قیادت کے ایک موقف پر متحد رہنے سے صہیونیوں کی جانب سے ان کو تقسیم کرنے کی تمام کوششیں بری طرح ناکام ہوئیں۔ اسی طرح بھوک ہڑتال ختم کرانے کی صہیونی سازشیں بھی کار گر ثابت نہ ہو سکیں۔  
عزت رشق نے کہا ہے کہ حماس بر صورت اور ہر حال میں پابند سلاسل فلسطینیوں کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ کوئی عارضی المیہ حماس کے تحریک آزادی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ حماس فلسطینی قیدیوں کی مدد اور ان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے تمام ملکی اور بین الاقوامی کوششوں کو متحرک کرنے کے جامع  پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گیلاد شالیت کی رہائی فلسطینی قیدیوں کی بڑی تعداد کی رہائی کی صورت میں ہی ممکن ہے، اس کے علاوہ کوئی چیز شالیت کی رہائی کا متبادل نہیں ہوسکتی۔  
رشق نے عرب اور اسلامی قوموں سے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی قید اسرائیلی سفاکیت سے آزادی کے لیے صدا بلند کرنے کا مطالبہ کیا،  ساتھ ہی انہوں نے قیدیوں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کی اپیل بھی کی۔
انہوں نے تمام عالمی تنظیموں، اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھی قابض
اسرائیلی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔
modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago