شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سات نومبر دوہزار پچیس کو زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں روز بروز بڑھتے ہوئے مسائل اور بحرانوں کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ داخلی اور خارجی پالیسیاں “قوم کے مفادات” کے مطابق ہونی چاہئیں۔ ممتاز عالم دین نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ملک کے موجودہ حالات میں، “ایک ہی موقف اور پالیسی پر اصرار” کرنے کے بجائے، “پالیسیوں میں تبدیلی” لاتے ہوئے جنگ اور پابندیوں سے بچنے کے لیے “پسپائی کی حکمت عملی” اختیار کریں۔
ملک میں مہنگائی اور افراط زر نے تباہی مچا رکھی ہے
سنی آن لائن نے مولانا عبدالحمید کے دفتر کی ویب سائٹ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انہوں نے کہاہے: ان دنوں ملک میں مہنگائی اور افراط زر نے تباہی مچا رکھی ہے اور قومی کرنسی کی قدر میں تیزی سے گراوٹ جاری ہے۔ اس صورتحال نے تمام طبقات اور پیشوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے عوام بہت بری حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اساتذہ، ریٹائرڈ افراد، مزدوروں اور یہاں تک کہ ایوان صدر، تمام وزارتوں اور محکموں کے ملازمین کی تنخواہیں بھی ان کے اخراجات کے لیے کافی نہیں ہیں، کیونکہ قومی کرنسی اپنی قدر کھو چکی ہے اور قیمتوں میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔
“غربت” نے لوگوں کے دین اور دنیا کو نقصان پہنچایا ہے
انہوں نے “غربت” کو معاشرے میں چوری اور بدامنی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا: معاشرے میں چوری اور بدامنی بڑھ گئی ہے اور اس بدامنی کی بہت سی جڑیں غربت سے جڑی ہیں۔ غربت نے لوگوں کے دین اور دنیا کو نقصان پہنچایا ہے۔ جب پیٹ بھوکا ہو تو بہت سے لوگ صبر نہیں کر پاتے اور گناہ اور فساد کا ارتکاب کرتے ہیں اور دین سے بھی بدگمان ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: بدقسمتی سے ایران کے عوام کو دنیاوی اور دینی دونوں لحاظ سے نقصان پہنچا ہے۔ زندگی کی مشکلات اور سختیوں کی وجہ سے معاشرے میں دین سے دوری بڑھ گئی ہے۔ ایسے حالات میں سب کی ذمہ داری بھاری ہے۔ ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ معاشرے میں غبن، چوری اور ڈکیتی نہ ہو اور لوگوں کو نصیحت کریں کہ یہ مشکلات اور سختیاں امتحان اور آزمائش ہیں اور ان مسائل کی وجہ “دین” نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کے حکام کی انتظامی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ اس لیے وہ خدا کے دین کو نہ چھوڑیں اور خدا اور رسول اللہ کو خود سے ناراض نہ کریں۔
ڈکیتی، چوری اور اغوا برائے تاوان، چاہے کسی بھی وجہ سے ہو، “حرام” اور “بہت بڑا جرم” ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے “قتل، چوری اور اغوا میں اضافے” پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا اور کہا: بدقسمتی سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ایسے گروہ بن گئے ہیں جو لوگوں کو قرض یا تاوان کے لیےاغوا کرکے یرغمال بناتے ہیں۔ یرغمال بنانا کسی بھی وجہ سے ہو، چاہے قرض کے لیے ہو یا تاوان کے لیے، حرام اور ناجائز ہے، اور اگر یہ تاوان کے لیے ہو تو اس کی حرمت کئی گنا زیادہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا: کسی کو یرغمال بنانا اس کی عزت اور آبرو پر حملہ ہے۔ قرض کے لیے لوگوں کو قید کرنا اور جیل میں ڈالنا حکومت اور عدلیہ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ ہم قرض لینے کے لیے کسی کو قید نہیں کر سکتے۔ حال ہی میں ایک بری رسم شروع ہوئی ہے کہ کچھ لوگ مسجد کے راستے میں انتظار کرتے ہیں اور جب کوئی شخص مسجد سے باہر نکلتا ہے تو اسے یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ بدترین طریقہ ہے۔
زاہدان کے خطیب جمعہ نے فرمایا: ڈکیتی اور چوری کسی بھی طریقے اور وجہ سے ہو، شرعی لحاظ سے بہت بڑا گناہ اور جرم ہے۔ یہ بہت بری بات ہے کہ انسان خدا سے رزق نہ مانگے اور رہزنی اور لوگوں کے گھروں یا دکانوں میں چوری کا ارتکاب کرے اور لوگوں کو مسجد کے راستے میں قید کر کے یرغمال بنا لے۔
جو ملک کا سربراہ ہے اس کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ سنگین ہے / مظاہرین کو قید کرنا غلط کام ہے
مولانا عبدالحمید نے حدیث “کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ” کا حوالہ دیتے ہوئے عوام کے مسائل حل کرنے میں حکومت کی ذمہ داری پر زور دیا اور کہا: حکومت کی ذمہ داری، خاص طور پر اس شخص کی جو ملک کا سربراہ ہے، تمام حکام سے زیادہ سنگین ہے، اور جو نچلے عہدے پر ہے وہ اسی قدر ذمہ دار ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی: معاشرے کے مختلف طبقات اور گروہوں کے سامنے حکومت کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے جو روزانہ چیخ رہے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں کہ ان کی تنخواہیں کافی نہیں ہیں اور ان کا گزارا نہیں ہو رہا۔ آپ کو انہیں قید نہیں کرنا چاہیے۔ اساتذہ اور دیگر طبقات کو جو احتجاج کر رہے ہیں، قید کرنا غلط ہے۔ ان افراد کو قانونی طور پر احتجاج کا حق حاصل ہے اور ان کے مسائل اور مطالبات پر توجہ دی جانی چاہیے۔
داخلی اور خارجی پالیسیاں قوم کے مفادات کے مطابق ہونی چاہئیں
زاہدان کے خطیب نے واضح کیا: حکمران اور حکام کا فرض ہے کہ وہ ملک کا اس طرح انتظام کریں کہ لوگ بھوکے نہ رہیں، نقصان نہ اٹھائیں اور غلط داخلی و خارجی پالیسیوں کا شکار نہ بنیں۔ عوام کے مفادات کا تحفظ اور دفاع ہر حکمران اور حکومت کا اولین فریضہ ہے۔ تمام داخلی اور خارجی پالیسیاں ایران کے عوام کے مفادات کے مطابق ہونی چاہئیں۔ ہر وہ پالیسی جو قوم اور عوام کے مفادات کو قربان کرے، جائز نہیں ہے۔
انہوں نے زور دیا: ان لوگوں کے پاس رہنے کے لیے ایران کے علاوہ کوئی جگہ نہیں ہے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ عوام کے مسائل حل کریں اور انہیں بے گھر نہ کریں۔
ایک پالیسی پر اصرار کرنا “مزاحمت” نہیں ہے؛ سیاسی میدان میں “حکمت عملی” سے کام لینا چاہیے
مولانا عبدالحمید نے “پالیسیوں پر نظر ثانی” پر زور دیا اور حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ہم اس ملک کے شہری ہیں اور آپ کے اور ملک کے خیر خواہ ہیں۔ آپ پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ یہ مزاحمت نہیں ہے کہ انسان ایک ہی موقف اور پالیسی پر اصرار کرے، بلکہ پالیسیوں میں آگے پیچھے ہونا ہوتا ہے اور سیاسی میدان میں حکمت عملی سے کام لینا پڑتا ہے۔ جب آپ آگے تھے تو پیشگی شرائط طے کریں اور کبھی پیچھے ہٹیں اور دوسروں کی شرائط قبول کریں۔
انہوں نے واضح کیا: جب ملک ایسے مشکل حالات میں ہو تو کوئی حرج نہیں کہ آپ بہت سے معاملات سے پیچھے ہٹ جائیں۔ اگر آپ پسپائی کی حکمت عملی نہیں جانتے تو مسائل پیدا ہوں گے۔ ملک کے موجودہ حالات ایسے ہیں کہ آپ (حکام) کچھ قدم پیچھے ہٹیں اور دشمن کی شرائط کو قبول کریں تاکہ جنگ اور پابندیوں میں اضافے کو روکا جا سکے۔
مولانا عبدالحمید نے نشاندہی کی: رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں جنگ اور خونریزی کو روکنے کے لیے، صلح کے لیے دشمن کی شرائط قبول کیں اور عمرہ کے سفر سے واپس لوٹ گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس موقف اور پالیسی کی وجہ صرف “وحی” نہیں تھی، بلکہ انہوں نے عقل اور منطق کی بنیاد پر یہ کام کیا اور اللہ تعالی نے اس صلح کی برکت سے مسلمانوں کے لیے بڑی خیر کے دروازے کھول دیے۔
“پابندیاں” “فوجی جنگ” سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں
اہل سنت ایران کے ممتاز رہ نما نے “پابندیوں” اور “فوجی جنگ” کو ملک کے لیے دو بڑے خطرات یاد کرتے ہوئے کہا: آج ملک کو دو جنگوں کا سامنا ہے۔ ایک “فوجی اور مسلح جنگ” اور دوسری “پابندیوں کی جنگ” ہے، اور پابندیاں فوجی اور مسلح جنگ سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔
انہوں نے زور دیا: دشمن کیوں بار بار دھمکی دے کہ وہ اقتصادی مراکز یا ملک کے حکام کو نشانہ بنائے گا؟! اگر حکام ملک کے حالات کو مدنظر رکھیں اور پالیسیوں کو تبدیل کریں، تو یہ ملک اور ایران کی قوم کے مفاد میں ہے اور اس سے علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کا تحفظ ہو گا۔
ان حساس حالات میں سرحدیں کھولی جائیں اور بحران زدہ عوام کے کاروبار کو نہ روکا جائے
مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع سے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں کچھ صوبائی مسائل کی طرف اشارہ کیا اور کہا: الحمدللہ، صوبے کی انتظامیہ مقامی ہے اور کچھ کمزوریوں کے باوجود، اس کے مثبت پہلو زیادہ رہے ہیں۔ اسی طرح چابہار فری زون اور سیستان فری زون کی انتظامیہ، جو دونوں صوبے کے لیے مواقع ہیں، مقامی افراد کو سونپی گئی ہے اور ان مقامی منتظمین نے اچھے اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ان حساس حالات میں سرحدیں کھولی جانی چاہئیں اور بحران زدہ عوام کے کام اور کاروبار کو نہیں روکنا چاہیے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مقامی کمپنیاں سیستان فری زون میں، جو حال ہی میں منظور ہوا ہے اور وہاں لوگوں کے لیے کام کرنا آسان ہے، سرمایہ کاری کریں گی۔
کوئی بھی محکمہ “مخصوص” اور “خاندانی” نہیں ہونا چاہیے؛ محکموں کی انتظامیہ میں تمام قوموں اور مسالک سے استفادہ کیا جائے
زاہدان کے خطیب نے “امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے خاتمے” کی ضرورت پر زور دے کر کہا: زاہدان، بلوچستان اور سیستان کے علاقے کے محکموں میں توازن قائم کیا جانا چاہیے۔ کوئی بھی محکمہ مخصوص اور خاندانی نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری نصیحت ہے کہ تمام محکموں کی انتظامیہ میں تمام لسانی برادریوں اور مسالک سے کام لیا جائے؛ یہ صوبے کے اتحاد اور ترقی میں مدد دے گا۔
سیستان کے علاقے کے بلوچ عوام شکایت کرتے ہیں کہ انہیں اس علاقے کی انتظامیہ میں شامل نہیں کیا گیا؛ صوبائی انتظامیہ سیستان میں “انصاف” کو یقینی بنائے
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: سیستان کے علاقے کے بلوچ عوام ہمیشہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے قابل افراد کو اس علاقے کی انتظامیہ میں استعمال نہیں کیا گیا، اور یہ ایک ظلم ہے جو ماضی سے جاری ہے۔ گورنر اور صوبائی انتظامیہ سے توقع ہے کہ سیستان کے علاقے میں انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔ ہم سب، چاہے بلوچ ہوں یا سیستانی، بیرجندی ہوں یا کرمانی، اور دیگر گروہ، اس صوبے میں ایک دوسرے کے بھائی اور رشتہ دار ہیں اور ایک ساتھ رہتے ہیں۔ الحمدللہ، حالیہ برسوں میں پہلی بار ایک سیستانی بھائی کو زاہدان کی سٹی کونسل کا صدر منتخب کیا گیا، اس قسم کے اقدامات ہمیں ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔
زاہدان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے زیر انتظام مراکز کی انتظامیہ پر ایک ہی لسانی گروہ کا قبضہ ہے؛ یہ حکومت اور قوم کے مفاد میں نہیں ہے
مولانا عبدالحمید نے کہا: عوام کو زاہدان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز سے توقعات ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ اس یونیورسٹی کے حکام نے کیسے کام کیا ہے کہ اس یونیورسٹی کے زیر انتظام تمام مراکز کی انتظامیہ مکمل طور پر ایک ہی لسانی برادری کے قبضے میں ہے، اور یہ کام نظام، حکومت اور قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہم وزیر صحت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور صوبہ سیستان و بلوچستان اور دیگر لسانی و مذہبی برادریوںکے صوبوں کا خیال رکھیں اور ان کے حقوق کو مدنظر رکھیں۔
انہوں نے زور دیا: وزراء کو محتاط رہنا چاہیے اور نگرانی کرنی چاہیے کہ جن صوبوں میں مختلف قومیتیں اور مسالک رہتے ہیں وہاں سب کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔
حکام ملک میں ہونے والے “مشکوک قتلوں” کی جڑوں تک پہنچیں
مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع سے اپنے خطاب کے آخری حصے میں ملک میں ہونے والے “مشکوک قتلوں” کی طرف اشارہ کیا اور کہا: حال ہی میں ملک میں مشکوک قتل ہوئے ہیں۔ “امید سرلک” نامی شخص کی لاش ایک گاڑی سے ملی ہے اور ایرانشہر میں بھی ایک قبائلی رہنما کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ یہ قتل مشکوک ہیں اور حکام عوام کی جان کی حفاظت اور ان قتلوں کو روکنے کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے زور دیا: حکام کو ان قتلوں کی جڑوں تک پہنچنا چاہیے تاکہ ایسا نہ ہو کہ اپنی مرضی سے کارروائی کرنے والےافراد، جو کچھ اداروں میں جڑیں رکھتے ہیں، کارروائی میں آ جائیں۔ ان افراد کو روکا جانا چاہیے اور انہیں سزا اور تنبیہ کی جانی چاہیے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام