شمالی کابل کی ایک مسجد میں دھماکے سے 30 سے افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق پولیس نے متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے تاہم اس ضمن میں صحیح اعداد و شمار پیش نہیں کیے گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مسجد میں دھماکا نماز کی ادائیگی کے دوران ہوا۔ دھماکے کے بعد طالبان کی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور فلاحی ادارے کے رضاکاروں نے ریسکیو کر کے ہلاک شدگان و زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ شمالی کابل میں زور دار دھماکے کی آواز میں سنی گئی جس سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ دھماکا مسجد کے اندر ہوا، دھماکے میں جانی نقصان ہوا ہے لیکن تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔ طالبان کے انٹیلی جنس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھماکا کابل کے علاقے خیر خانہ میں نمازیوں کے درمیان ایک مسجد میں ہوا۔
مقامی میڈیا کے مطابق اب تک کسی بھی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…