تہران (سنی آن لائن) ایران کے شمالی صوبہ گلستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین شیخ طہ جان فروزش علالت کی وجہ سے تہران کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے۔
سنی آن لائن کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، جامعہ سعدیہ کے صدر و مہتمم 55 سالہ طہ جان فروزش کینسر کے بیماری میں مبتلا تھے۔ ان کی نماز جنازہ جمعرات (گیارہ اگست) کو ان کے آبائی علاقے میں ادا کی گئی۔
”استاد طہ جان آخوند فروزش“ کا تعلق صوبہ گلستان کے ضلع کلالہ سے ہے جہاں اورجنلی نامی بستی میں وہ دینی خدمات میں مصروف تھے۔ ان کے والد شیخ عبدالوہاب فروزش کا شمار ترکمن صحرا کے چوٹی کے علما میں ہوتا تھا جن کے انتقال کے بعد، جامعہ سعدیہ کی صدارت اور ان کی دیگر ذمہ داریاں ان کے قابل فرزند شیخ طہ جان فروزش کے سپرد ہوئیں۔
انہوں نے اپنے علاقے میں جامع مسجد اور عیدگاہ تعمیر کروائی اور دینی مدرسے کے ساتھ لڑکیوں کے لیے بھی مدرسۃ البنات قائم کیا۔ ان کے مدرسے میں سینکڑوں حافظ قرآن، عالم دین اور فضلا کی تربیت ہوچکی ہے۔ ترکمن صحرا میں انہیں ایک جید عالم دین، حق گو اور نڈر سماجی رہ نما کے طور پر عوام جانتے ہیں جنہوں نے سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ خاندانی اور قبائلی تنازعات کا تصفیہ ان کی دیگر خدمات میں شامل ہیں۔
متعدد علمائے کرام بشمول شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اور مولانا محمدحسین گورگیج نے تعزیتی پیغام دیتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیاہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام