اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اعلیٰ سطح کے تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ فلسطین کے مسائل کی جڑ دہائیوں سے جاری اسرائیل کا جبری قبضہ اور شہریوں پر بہیمانہ تشدد ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے تفتیش کاروں نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم سے متعلق اپنی 18 صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کرادی جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امن کے لیے فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی قبضہ ختم کرنا ضروری ہے۔
تفتیشی ٹیم کے سربراہ ناوی پیلے نے بتایا کہ اس رپورٹ کے لیے ماضی کی تحقیقات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اسرائیل کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کا احتساب ہونا چاہیے تھا لیکن ماضی میں بھی ہماری سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا۔
ناوی پیلے نے مزید کہا کہ ماضی کی سفارشات پر عمل نہ کرنے سے ثابت ہوگیا کہ اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس بار بھی اسرائیل نے انسانی حقوق کمیشن کی تحقیقات میں تعاون نہیں کیا۔
اقوام متحدہ کی تفتیشی ٹیم کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی مظالم کے خلاف فلسطینیوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور کئی شہروں میں مسلسل مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس مئی میں اقوام متحدہ نے اسرائیل فلسطین جنگ کے بعد یہ انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید