مقبوضہ بیت المقدس میں آج رمضان کے پہلے جمعے کے موقع پر سیکڑوں فلسطینیوں نے صبح سے ہی مسجد اقصیٰ جانا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں اسرائیل نے اجازت کے حوالے سے شرائط میں نرمی برتی ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا تھا کہ جمعرات کی شام تل ابیب میں فائرنگ کر کے متعدد اسرائیلیوں کو ہلاک اور زخمی کرنے والا حملہ آور یافا شہر میں پولیس کے ساتھ تبادلے میں ہلاک ہو گیا۔
اسرائیلی فورسز نے قلندیا چیک پوسٹ کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا۔ اس دوران میں صرف اُن فلسطینیوں کو آنے کی اجازت دی گئی جو مقررہ شرائط پوری کر رہے تھے۔
اسرائیلی حکام نے رواں ہفتے بتایا تھا کہ تمام عمر کی خواتین اور 12 برس تک کے بچوں کو بنا پرمٹ داخلے کی اجازت ہو گی۔ علاوہ ازیں 40 برس سے 49 برس تک کے فلسطینی مرد نافذ العمل پرمٹ کے ساتھ داخل ہو سکیں گے جب کہ 50 برس اور اس سے زیادہ عمر کے فلسطینی مردوں کو پرمٹ کے بغیر داخلے کی اجازت ہو گی۔
مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینیوں کو بیت المقدس میں داخلے کے لیے اسرائیلی حکام سے خصوصی اجازت ناموں (پرمٹس) کی ضرورت ہوتی ہے۔
جمعے کی نماز کی ادائیگی کے لیے داخلے کے منتظر درجنوں فلسطینی مرد اور خواتین قلندیا چیک پوسٹ کے سامنے صفوں میں کھڑے ہو گئے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار